صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 363 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 363

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۳ ٧٠ - كتاب الأطعمة عَلَامَ يَأْكُلُوْنَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ۔ کے لئے بار یک چپاتیاں پکائی گئیں۔ میں نے قتادہ أطرافه : ٥٣٨٦ ، ٦٤٥٠- سے پوچھا: وہ لوگ کس پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے ؟ انہوں نے کہا: دستر خوان پر۔ ٥٤١٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ۵۴۱۶: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ جرير بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا منصور سے منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم شَبعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اسود بن یزید) سے ، اسود نے حضرت عائشہ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: الْبُرِّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت نے جب سے آپ مدینہ میں آئے جو کی روٹی سے لگاتار تین طرفه: ٦٤٥٤ - راتیں بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ تشريح مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ : بی صلی الہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کیا کھاتے تھے۔ ابواب ۲۲، ۲۳ کی روایات میں صحابہ کی زندگی کے ان واقعات کا ذکر ہے جب ابتدائے اسلام میں انہیں بھوک، افلاس اور مالی تنگی کا سامنا تھا مگر اس دور میں بھی ان کی قناعت اور تو کل اس شان کا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے پر راضی تھے۔ اور جب ان کو مال ملے تو بھی اموال کی کثرت نے ان کی قناعت، تو کل اور بے نفسی میں کوئی فرق نہیں ڈالا۔ ہر دو ادوار انہوں نے شکر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر دانی اور اس کے فضلوں کی یاد میں گزارے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ” جب کسری کو شکست ہوئی اور مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو ان میں کچھ ہوائی چکیاں بھی تھیں جن سے بار یک آٹا پیسا جاتا تھا اس سے پہلے مکہ اور مدینہ کے رہنے والے سیل بٹہ پر دانوں کو پیس لیا کرتے اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکالیا کرتے تھے۔ جب مدینہ میں ہوائی چکیاں آئیں اور ان سے باریک میدہ تیار کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ