صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 362
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعمة قَبَضَهُ اللهُ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ اللہ نے وفات دی، چھلنی نہیں دیکھی۔ کہتے تھے: تَأْكُلُوْنَ الشَّعِيْرَ غَيْرَ مَنْخُوْلٍ قَالَ میں نے پوچھا: تم بن چھنے جو کیسے کھاتے تھے؟ كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ فَيَطِيْرُ مَا طَارَ کہتے تھے : ہم ان کو پیتے تھے اور ان میں پھونک وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ۔ مارتے پھر جو اُڑ جاتا وہ اڑ جاتا اور جو باقی رہتا ہم اس کو گوندھ کر کھاتے۔ طرفه: ٥٤١٠۔ ٥٤١٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ ۵۴۱۴ : اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا روح بن عبادہ نے ہمیں خبر دی ۔ ابن ابی ذئب ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ روایت کی کہ وہ لوگوں کے پاس سے گزرے کہ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو بلایا مگر انہوں نے يَشْبَعْ مِنَ الْخُبْرِ الشَّعِيْرِ۔ کھانے سے انکار کیا۔ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے چلے گئے اور آپؐ نے جو کی روٹی سے بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ ٥٤١٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي ۵۴۱۵ : عبد اللہ بن ابی الاسود نے ہمیں بتایا کہ الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُعَادٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ معاذ بن هشام) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے يُونُسَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس قَالَ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے قتادہ سے ، قتادہ نے حضرت انس بن مالک سے وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُجَةٍ روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَلَا خُبزَ لَهُ مُرَقَّقٌ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ نہ خوان پر کھایا اور نہ ہی طشتری میں اور نہ آپ