صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 357
صحیح البخاری جلد ۱۳ أَبِي قَتَادَةَ۔۔مِثْلَهُ۔۳۵۷ ٧٠ - كتاب الأطعمة پاس اس میں سے کچھ ہے ؟ میں نے آپ کو وہ بازو دیا اور آپ نے اس سے کھایا اور دانتوں سے نوچ کر صاف کر دیا اور آپ بھی احرام باندھے ہوئے تھے۔محمد بن جعفر نے کہا: اور مجھے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابو قتادہ روایت کرتے ہوئے اسی طرح بتایا۔أطرافه: ۱۸۲۱، ۱۸۲۲، ۱۸۲۳، ۱۸۲۴، ۲۷۰، ۲۸۰۴، ۲۹۱۴، ٤١٤٩، ٥٤٠٦، -٥٤٩٠ ٥٤٩١ ٥٤٩٢ تشریح النَّهْشُ وَانْتِشَالُ اللَّحْمِ : گوشت کو دانتوں کے ذریعہ ہڈی سے جدا کرنا اور گوشت کو ہانڈی کے پکنے سے پہلے نکالنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کی سب سے بڑھ کر قدر کرتے اور ان کا بر محل استعمال کرتے اور حظ اُٹھاتے اور ان فوائد کو حاصل کرتے جو ان نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے ودیعت کیے ہیں اور یہ آپ کے عبد شکور ہونے کا ایک عملی اظہار تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”فطرت انسانی کے کمالات سے ناواقف لوگوں میں یہ عام خیال ہے کہ اچھا کھانا ایک حیوانی فعل ہے اور اعلیٰ روحانی مقامات کے منافی ہے لیکن وہ فطرت انسانی جسے خدا نے پیدا کیا ہے اس کے بالکل برخلاف ہے۔کھانوں کا انسانی اخلاق سے ایک گہرا تعلق ہے اور مختلف کھانے اپنے نباتی احساسات کو انسانی جسم میں جاکر اخلاقی میلانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کھانے میں میانہ روی کی تو بے شک تعلیم دیتے تھے لیکن عمدہ کھانے سے آپ نے کبھی نہیں روکا۔بلکہ جب کبھی کسی نے عمدہ کھانا دعوت میں پیش کیا آپ نے اسے استعمال فرمایا۔ہاں یہ شرط لگا دی کہ کھانے کے متعلق ان امور کو مد نظر رکھو۔(۱) ایسی طرح کھانے کی چیزوں کو ضائع نہ کرو کہ غرباء کو تکلیف ہو۔(۲) جس وقت ملک میں قحط ہو اور لوگ تکلیف میں ہوں غذا سادہ کر دو تا کہ تمہارے بہت سے کھانوں میں غرباء کا ایک کھانا بھی ضائع نہ ہو جائے۔(۳) سوائے حقیقی ضرورت کے کھانوں کا ذخیرہ جمع نہ کرو تا غرباء اپنے حصہ سے محروم نہ رہ جائیں۔“ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان کی حیثیت میں ، انوار العلوم جلد ۱۰صفحہ ۵۴۲)