صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 358
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۵۸ ٧٠ - كتاب الأطعمة بَاب ۲۰ : قَطْعُ اللَّحْمِ بِالسِّيِّيْنِ چھری سے گوشت کاٹنا ٥٤٠٨ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۵۴۰۸: ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، وہ کہتے ہیں جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ مُجھے جعفر بن عمرو بن امیہ نے بتایا کہ ان کے باپ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ حضرت عمرو بن امیہ ضمری) نے ان کو بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ بکری کے شانے سے جو آپ کے ہاتھ میں تھا چھری كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ فَدَعِيَ إِلَی سے کاٹ کاٹ کر لے رہے تھے۔ اتنے میں نماز الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّيْنَ الَّتِي يَحْتَزُّ کے لئے بلائے گئے تو آپ نے اس شانے کو اور بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ۔ اس چھری کو جس سے آپ گوشت کاٹ رہے تھے أطرافه : ۲۰۸، ۱۷۵ ، ۲۹۲۳، ٥٤٢٢، ٥٤٦٢۔ رکھ دیا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ تشریح : قطع اللحم بالسكين: چھری سے گوشت کا نما۔ اسلام انسان کی ضرورت کی ہر صورت کو نہ صرف جائز قرار دیتا ہے بلکہ اس کے لیے ممکنہ اسباب کو اختیار کرنا بھی اسلامی شریعت کی روح کے عین مطابق ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ انسان اسباب کا غلام نہ ہو اور اس میں بناوٹ اور تکلف نہ ہو۔ کھانے پینے اور پہننے وغیرہ میں اسلام نے اس اصول کو مد نظر رکھا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: شریعت اسلام نے چھری سے کاٹ کر کھانے سے تو منع نہیں کیا۔ ہاں تکلف سے ایک بات یا فعل پر زور ڈالنے سے منع کیا ہے۔ اس خیال سے کہ اس قوم سے مشابہت نہ ہو جاوے ورنہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا اور یہ فعل اس لیے کیا کہ تا امت کو تکلیف نہ ہو۔ جائز ضرورتوں پر اس طرح کھانا جائز ہے۔ مگر بالکل اس کا پابند ہونا اور تکلف کرنا اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو حقیر جاننا منع ہے کیونکہ پھر آہستہ آہستہ انسان کی نوبت تتبع کی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ ان کی طرح طہارت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے ۔ مَنْ تَشَابَهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ سے مراد یہی ہے کہ