صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 354
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۵۴ ٧٠ - كتاب الأطعمة تشريح : السَّلْقُ وَالشَّعِيرُ : : چقندر اور جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صحابہ کی قربانی کا یہ حال تھا کہ وہ بعض دفعہ فاقوں پر فاقے کرتے مگر مسجد میں بیٹھے رہتے تا کہ ایسا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرمائیں اور وہ اسے سننے اور لوگوں تک پہنچانے سے محروم رہ جائیں۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ انہیں ہمیشہ فاقے آتے تھے کیونکہ مسلمان انہیں کھلاتے بھی رہتے تھے اور بعض صحابہ کے گھروں سے تو انہیں باری باری کھانا آتا تھا البتہ کبھی کبھی انہیں فاقہ بھی برداشت کرنا پڑتا تھا۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت ہر جمعرات یا جمعہ کو اس جمعرات یا جمعہ کو انہیں چقندر پکا کر بھیجتی تھی اسی ۔ پکا کر بھیجتی تھی اسی طرح کسی دن کوئی صحابی کھانا بھجوا دیتا اور کسی دن کوئی۔ جب وہ عورت فوت ہو گئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم نہ ہوا۔ چند دن کے بعد آپ نے دریافت فرمایا کہ فلاں عورت کئی دنوں سے دیکھی نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول الله ! وہ تو فوت ہو گئی ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ وہ تو اصحاب الصفہ کو چقندر کھلایا کرتی تھی اگر تم مجھے بتاتے تو میں " خود اُس کا جنازہ پڑھاتا۔“ (سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ صفحه ۸۶) باب ۱۸: النَّهْشُ وَانْتِشَالُ اللَّحْمِ گوشت کو دانتوں کے ذریعہ ہڈی سے جدا کرنا اور گوشت کو ہانڈی کے پکنے سے پہلے نکالنا ٥٤٠٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۵۴۰۴ : عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہمیں بتایا کہ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا حماد بن زید) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَعَرَّقَ رَسُوْلُ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ۔ أطرافه: ٢٠٧، ٥٤٠٥۔ وسلم نے شانے کی ہڈی کا گوشت کھایا پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔