صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 352 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 352

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۵۲ ٧٠ - كتاب الأطعمة وَنَصِيْحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِيْنَ فَقَالَ فَإِنَّ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ حضرت عتبان اللهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ کہتے تھے: ہم نے کہا: ہم اس کی توجہ اور اس کی إِلَّا اللهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ۔ قَالَ خیر خواہی منافقوں کے لئے دیکھتے ہیں۔ آپ نے ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ فرمایا: اللہ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے جس نے لا اله الا اللہ کا اقرار کیا۔ وہ اس سے اللہ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِي أَحَدَ بَنِي سَالِم کی رضا مندی چاہتا ہے۔ ابن شہاب نے کہا: میں وَكَانَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيْثِ مَحْمُوْدٍ فَصَدَّقَهُ۔ نے (محمود سے یہ سن کر ) حصین بن محمد انصاری سے جو بنو سالم سے تھے محمود کی اس حدیث کے متعلق پوچھا اور وہ ان کے بڑے لوگوں میں سے تھے تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ أطرافه: ٤٢٤، ٤٢٥ ، ٦٦٧، ٦٨٦ ، ٨٣٨ ، ٨٤٠ ، ۱۱٨٦، ۴۰۰۹ ، ٤۰۱۰ ، ٦٤٢٣ ، ٦٩٣٨ - الْخَزِيرَةُ: ہری نے کہا ہے کہ خزیرہ یہ ہے کہ گوشت کے چھوٹے تشريح الجزيرة : علامہ بدرالدین عینی کھتے ہیں جوہری نے کہا ہے چھوٹے ٹکڑے کاٹے جائیں اور ان میں کافی مقدار میں پانی ڈالا جائے جب وہ پک جائے تو ان میں بار یک آٹا ملا کر اسے تیار کیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خزیرہ صاف شوربہ ہوتا ہے جس میں چھان ملا کر پکایا جاتا ہے۔ بَاب ١٦ : الْأَقِطُ پنیر (عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحه (۴۵) وَقَالَ حُمَيْدٌ سَمِعْتُ أَنَسًا بَنَى النَّبِيُّ اور حمید نے کہا: میں نے حضرت انس سے سنا۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَفِيَّةَ فَأَلْقَى في صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ سے شادی التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ۔ وَقَالَ عَمْرُو کی۔ پھر ( دعوت میں) آپ نے کھجور، پنیر اور گھی بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ صَنَعَ النَّبِيُّ (دستر خوان پر رکھا اور عمرو بن ابی عمرو نے حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْسًا۔ انس سے نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور، پنیر اور گھی کا مالیدہ تیار کیا۔