صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 350
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۵۰ ٧٠ - كتاب الأطعمة ”ایک دفعہ آپ رستہ میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک بکری بھون کر لوگوں نے رکھی ہوئی ہے اور دعوت منا رہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اُن لوگوں نے آپ کو بھی دعوت دی مگر آپ نے انکار کر دیا ۔ اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ آپ بھونا ہوا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کو اس قسم کا تکلف پسند نہیں تھا کہ پاس ہی غرباء تو بھو کے پھر رہے ہوں اور اُن کی آنکھوں کے سامنے لوگ بکرے بھون بھون کر کھا رہے ہوں۔ ورنہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آپ بھونا ہوا گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۳۷۷) بَاب ١٥ : الْخَزِيْرَةُ خزیرہ قَالَ النَّضْرُ الْخَزِيْرَةُ مِنَ النَّخَالَةِ نضر بن شمیل) نے کہا: خزیرہ چھان سے بنایا جاتا وَالْحَرِيْرَةُ مِنَ اللَّبَنِ۔ ہے اور حریرہ دودھ ہے۔ ٥٤٠١ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۴۰۱: يحي بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ ابن شہاب سے ، ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے محمود الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكِ بن ربیع انصاری نے بتایا کہ حضرت عتبان بن مالک وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان انصاری صحابہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ سے تھے جو بدر میں شریک ہوئے، رسول اللہ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ يا رسول اللہ ! میں اپنی بینائی کو کمزور پاتا ہوں اور إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں جب بارشیں ہوتی لِقَوْمِي فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ ہیں تو وہ نالہ جو میرے اور ان کے درمیان ہے الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَمْ بہنے لگتا ہے۔ میں ان کی مسجد میں نہیں آسکتا کہ :