صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 349 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 349

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۴۹ ٧٠ - كتاب الأطعمة بَاب ١٤ : الشَّوَاءُ بھنا ہوا گوشت وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى فَجَاءَ بِعِجْلٍ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وہ بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ حَنِينٍ (هود: ۷۰) أَيْ مَشْوِي۔ مشوی یعنی بھنا ہوا۔ ٥٤٠٠ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۵۴۰۰ : علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا۔ معمر نے مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے ، زہری نے سَهْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ ابو امامہ بن سہل بن حنیف) سے، ابوامامہ نے الْوَلِيدِ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابن عباس سے، حضرت ابن عباس نے وَسَلَّمَ بِضَبٌ مَشْوِيَ فَأَهْوَى إِلَيْهِ حضرت خالد بن ولید سے روایت کی۔ انہوں نے ليَأْكُلَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ ضَبٌ فَأَمْسَكَ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھنی ہوئی گوہ لائی گئی۔ آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ يَدَهُ فَقَالَ خَالِدٌ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا کھائیں تو آپ سے کہا گیا کہ یہ تو گوہ ہے۔ آپ وَلَكِنَّهُ لَا يَكُوْنُ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُوْلُ ارم نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد نے پوچھا: کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں مگر میری قوم کی زمین اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ۔ قَالَ میں یہ نہیں ہوتی اس لئے میں اپنے آپ کو اس مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِضَبٌ سے کراہت کرتے ہوئے پاتا ہوں۔ پھر خالد نے مَحْنُوْدٍ۔ أطرافه: ٥٣٩١، ٥٥٣٧ کھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ مالک نے ابن شہاب سے یہ لفظ نقل کئے بِضَبٍ مَحْنُود یعنی بھنی ہوئی گوہ۔ تشريح الشواء : بنا ہوا گوشت ۔ آنحضرت مالی ام حلال چیزوں کے ساتھ طیب کا بھی خیال رکھتے تھے اور جو آپ کو طبیب نہ آپ کو طیب نہ لگتی آپ اس کو تناول نہ فرماتے ۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: