صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 348
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۴۸ ٧٠ - كتاب الأطعمة بَاب ۱۳: اَلْأَكْلُ مُتَّكِئًا تکیہ لگا کر کھانا ٥٣٩٨: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۵۳۹۸: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر بن مِسْعَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ سَمِعْتُ کدام) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے علی بن اقمر سے أَبَا جُحَيْفَةَ يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ روایت کی۔(علی نے کہا:) میں نے ابو جحیفہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا آكُل وهب بن عبد اللہ سوائی) سے سنا۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تکیہ لگا متكنًا۔طرفه ٥٣٩٩۔کر نہیں کھاتا۔٥٣٩٩ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۵۳۹۹: عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ شَيْبَةَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ جرير بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ منصورے، منصور نے علی بن اقمر سے، علی نے قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو جیفہ سے روایت کی۔وہ کہتے ہیں کہ میں نبی وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ لَا آكُل صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا جو آپ کے پاس تھا۔میں نہیں وَأَنَا مُتَّكِي۔طرفه ٥٣٩٨ - تشریح فرماتے ہیں: وو کھاتا جبکہ میں تکیہ لگائے ہوئے ہوں۔ریح۔الأكل متكنا: تکیہ لگا کر کھانا۔عنوان باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کا طریق بیان کیا گیا ہے کہ آپ ٹھیک لگا کر نہیں کھاتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جب آپ کھانا کھانے لگتے تو کھانے کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھتے اور فرماتے مجھے یہ تکبرانہ رویہ پسند نہیں کہ بعض لوگ ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہیں گویاوہ کھانے سے ستغنی ہیں۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۳۷۶)