صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 344
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعبة خَالِدٌ فَاجْتَزَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُوْلُ سے کراہت کرتا ہوں۔حضرت خالد نے کہا: میں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيَّ نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے۔أطرافه: ٥٤٠٠ ٥٥٣٧- باب ۱۱: طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْإِثْنَيْنِ ایک کا کھانا دو کو کافی ہوتا ہے ٥٣٩٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ ۵۳۹۲: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔و أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ح۔حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ نیز اسماعیل نے بھی ہم سے بیان کیا کہ مالک نے عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي مجھے بتایا۔انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ طَعَامُ الْاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کا کھانا تین کو کافی الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ۔ہوتا ہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے۔بَاب ۱۲ : الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعَى وَاحِدٍ مؤمن ایک ہی آنت میں کھاتا ہے فِيْهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اس بارہ میں حضرت ابوہریرۃ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔٥٣٩٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۵۳۹۳ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ عبد الصمد حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ( بن عبد الوارث) نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعِ قَالَ كَانَ ( بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے واقد بن محمد 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ فا جتررتہ ہے۔(فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۶۶۲) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔