صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 334
صحیح البخاری جلد ۱۳ م سمسم ٧٠ - كتاب الأطعمة شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ انْذَنْ کہ سیر ہو گئے اور چلے گئے۔پھر فرمایا: دس آدمیوں لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوْا حَتَّى کو اجازت دو اور انہوں نے ان کو اجازت دی۔شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ أَذِنَ لِعَشَرَةٍ انہوں نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ پھر چلے گئے۔پھر فرمایا: دس آدمیوں کو اجازت دو اور انہوں نے ان کو اجازت دی۔انہوں نے کھایا۔یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور پھر چلے گئے۔پھر حضرت ابو طلحہ نے اور دس کو اجازت ثَمَانُوْنَ رَجُلًا۔دی۔اسی طرح تمام لوگوں نے کھایا اور سیر ہو أطرافه : ٤٢٢ ، ٣٥٧٨، ٥٤٥٠، ٦٦٨٨- گئے اور وہ لوگ اتنی (۸۰) آدمی تھے۔٥٣٨٢ : حَدَّثَنَا مُوْسَی حَدَّثَنَا :۵۳۸۲ موسیٰ بن اسماعیل) نے ہم سے بیان مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ وَحَدَّثَ کیا کہ معتمر بن سلیمان بن طرخان) نے ہمیں أَبُو عُثْمَانَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا انہوں نے کہا۔اور ابو عثمان (نہدی) نے بھی مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس آدمی تھے۔نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کسی کے پاس ثَلَاثِيْنَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ کھانا ہے؟ تو ایک شخص کے پاس ایک صاع یا اتنا نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ ہی آنا تھا جو گوندھا گیا۔پھر ایک مشرک شخص جو مُشْعَانٌ طَوِيْلٌ بِغَنَمٍ يَسُوْقُهَا فَقَالَ لمادھڑ نگا تھا کچھ بکریوں کو ہانکتے ہوئے آیا۔نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَيْعٌ أَمْ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔کیا بیچنی ہیں یا دینی عَطِيَّةٌ أَوْ قَالَ هِبَةٌ قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ ہیں، یا فرمایا : مفت دینی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں قَالَ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ فَأَمَرَ بلکہ پچنی ہیں۔حضرت عبد الرحمن کہتے تھے: آپ