صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 333
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۳۳ ٧٠- كتاب الأطعمة آرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ نے پوچھا: کیا تم کو ابو طلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے بِطَعَامٍ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُوْلُ کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: کھانا دے کر ؟ کہتے تھے: اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ میں نے کہا: ہاں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُوْمُوْا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ (یہ سن کر) جتنے آپ کے ساتھ تھے ان سے فرمایا: حَتَّى جِنْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ أَبُو اٹھو اور آپ چل پڑے اور میں بھی آپ کے طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُوْلُ آگے آگے چل پڑا اور حضرت ابوطلحہ کے پاس اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ آیا۔حضرت ابوطلحہ نے کہا: ام سلیم رسول اللہ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ صلى اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو لے آئے ہیں اور فَقَالَتْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ ہم ان کو کھلائیں۔فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُوْلَ حضرت ام سلیم کہنے لگیں: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔حضرت انس کہتے ہیں: حضرت ابو طلحہ گئے اور جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور پھر حضرت ابو طلحہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے اندر آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمّي يَا أُمَّ علیہ وسلم نے فرمایا: اتم سلیم جو تمہارے پاس ہے وہ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخَبْزِ لاؤ چنانچہ وہ وہی روٹیاں لائیں۔آپ نے اُن کے فَأَمَرَ بِهِ فَقَتْ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ متعلق حکم دیا اور ان کے ٹکڑے کئے گئے اور حضرت سُلَيْمٍ عُكَةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ امّ سلیم نے اپنی ایک گھی کی کپی نچوڑی جس سے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اس کو بطور سالن کے پیش کیا۔پھر رسول اللہ شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُوْلَ ثُمَّ قَالَ الْذَنْ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے پر وہ کچھ دعا کی جو لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوْا حَتَّى الله نے چاہا کہ دعا کریں۔پھر آپ نے فرمایا: دس شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ الْذَنْ آدمیوں کو کھانے کی اجازت دو اور انہوں نے لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوْا حَتَّى انہیں اجازت دی اور انہوں نے کھایا۔یہاں تک