صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 335 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 335

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۳۵ ٧٠ - كتاب الأطعمة نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ نے اس سے ایک بکری خریدی جو (کھانے کے الْبَطْنِ يُشْوَى وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ لیے تیار کی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کلیجی کے الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ حُرَّةً بھونے کے متعلق حکم دیا اور اللہ کی قسم ایک سو تیس مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا آدمیوں میں سے ایک بھی آدمی نہ تھا جس کو آپ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَاهَا لَهُ نے اس کیجی میں سے کاٹ کر ایک ٹکڑا نہ دیا۔ اگر وہ موجود تھا تو آپ نے اس کو ایک ٹکڑا دیا اور جو ثُمَّ جَعَلَ فِيْهَا قَصْعَتَيْنِ فَأَكَلْنَا غیر حاضر تھا تو آپ نے اس کے لئے چھپا کر رکھا۔ أَجْمَعُوْنَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي پھر آپ نے بکری کا گوشت دو بڑے بڑے پیالوں الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيْرِ أَوْ میں ڈالا اور ہم بھی نے کھایا اور پیٹ بھر کے کھایا كَمَا قَالَ۔ أطرافه : ٢٢١٦ ، ٢٦١٨- اور ان پیالوں میں کچھ بچ بھی رہا جسے میں نے اونٹ پر رکھ لیا یا کچھ ایسے ہی لفظ تھے۔ ۵۳۸۳: مسلم (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ ٥٣٨٣ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ وهيب بن خالد ) نے ہم سے بیان کیا کہ منصور عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ بن عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ شَبِعْنَا ماں (صفیہ بنت شیبہ ) سے ، ان کی ماں نے حضرت مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت وفات پائی جب ہم اسودین طرفه: ٥٤٤٢ - یعنی کھجور اور پانی سیر ہو کر کھاتے تھے۔ تشریح : مَنْ أَكَلَ حَتَّى شيع: عنوان باب اگر چہ عام ہے یعنی اس قدر کھائے کہ سیر ہو جائے مگر باب ھذا کی روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقتداری نشانات کا ذکر ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اقتداری نشانات کے متعلق کچھ بیان کر دیا جائے۔ سو واضح ہو کہ آیات و معجزات کا سلسلہ برحق ہے اور ہمیشہ سے چلا چلا آیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کی زندگی میں اس