صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 332
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۳۲ ٧٠ - كتاب الأطعمة مطابق ہے۔پس مؤمن کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہت زیادہ احترام ہونا چاہئے۔جو لوگ چھوٹی باتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام نہیں کرتے وہ بڑی باتوں میں تو بالکل ہی نہیں کر سکتے۔(دائیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے ، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحہ ۴۸۹ تا ۴۹۳) بَاب ٦ : مَنْ أَكَلَ حَتَّى شَبِعَ جو اتنا کھائے کہ سیر ہو جائے ٥٣٨١ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي ۵۳۸۱: اسماعیل (بن ابی اُویس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے اسحاق بن أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عبد الله بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس يَقُوْلُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمّ سُلَيْمٍ لَقَدْ بن مالک سے سنا۔وہ کہتے تھے : حضرت ابو طلحہ نے سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت ام سلیم سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيْهِ علیہ وسلم کی آواز کو کچھ کمزور سنا ہے۔میں اس سے الْجُوْعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ سمجھتا ہوں کہ آپ کو بھوک ہے تو کیا تمہارے پاس فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيْرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ حِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ کچھ ہے؟ حضرت ام سلیم نے جو کی چند روٹیاں نکالیں۔پھر انہوں نے اپنی اوڑھنی نکالی اور اُس کے ایک حصہ میں روٹیوں کو ایک دوسرے پر بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي رکھ کر لپیٹ دیا۔پھر ان کو میرے کپڑے کے بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ نیچے چھپا دیا اور (اوڑھنی کا) کچھ کپڑا مجھ پر ڈال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ دیا۔پھر انہوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ کے پاس بھیجا۔حضرت انس کہتے تھے: میں روٹیاں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ لے کر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي پایا اور آپ کے ساتھ لوگ تھے۔میں ان کے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس کھڑا ہو گیا۔مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم