صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 331 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 331

صحیح البخاری جلد ۱۳ ٣٣١ ٧٠ - كتاب الأطعمة کو سزا ملے اور اس نے جن مہمانوں کی دعوت کی ہے اُن کو سب سے بعد میں کھانا ملے۔اگر وہ غلطی سے کھانا بائیں ہی کو پھیر دے گا تو دوسری دفعہ اس کو یاد نہیں آسکے گا اس لئے ضروری ہے کہ بائیں طرف مہمان بٹھانے والا دائیں سے شروع کرے تاکہ اُس کو اس غلطی کی سزا ملے۔ان دعوتیں کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ مہمان کو میرے پاس دائیں بٹھائیں تاکہ وہ دائیں سے کھانایا چائے شروع کر سکیں ورنہ اگر وہ مہمان کو بائیں بٹھاتے ہیں تو اپنے اوپر یہ سزائیں کہ مہمان کے سامنے بعد میں کھانا رکھیں مگر ہر حالت میں شروع دائیں طرف سے ہی کیا جائے اور ہمیشہ دائیں کو سب کاموں میں ملحوظ رکھا جائے۔اب خدا تعالیٰ نے غیر اسلامی لوگوں میں بھی اس کا احساس پیدا کر دیا ہے۔یورپین قومیں تو کیپ لیفٹ (KEEP LEFT) پر عمل کرتی ہیں مگر امریکہ والے کیپ رائٹ (KEEP RIGHT) پر عمل کرتے ہیں اور وہ سٹرک کے دائیں طرف چلتے ہیں وہ کہتے ہیں دائیں چلنے سے بائیں طرف سٹرک پر نظر ہوگی اور دوسری طرف سٹرک کی دیوار ہوگی اس لئے ٹریفک (TRAFFIC) میں حادثات کا زیادہ خطرہ نہ ہو گا اس لئے وہ موٹر دائیں طرف چلاتے ہیں اور ڈرائیور کی سیٹ موٹر میں بائیں طرف ہوتی ہے۔میں جب سفر یورپ پر گیا تو فلسطین کے ہائی کمشنر نے میری دعوت کی جب کھانا شروع ہوا تو میں نے چھری کانٹا دائیں ہاتھ سے پکڑا۔جب انہوں نے مجھے دائیں ہاتھ میں چھری کانٹا پکڑے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور دائیں ہاتھ سے کھاناشروع کر دیا حالانکہ وہ بائیں ہاتھ میں چھری کانٹا پکڑنے کے عادی تھے اور یورپین قومیں اسی طرح کرتی ہیں۔انہوں نے بائیں ہاتھ سے نہ کھایا بلکہ دائیں سے کھایا۔جب غیر اتنا لحاظ کرتے ہیں تو کیا مسلمان کہلانے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ نہیں کریں گے۔وہ ایک عیسائی تھا اور اس جگہ کا حاکم تھا اس کے مقابلہ میں میں رعایا تھا مگر اس نے میرا احترام کیا اور جب مجھے دائیں ہاتھ سے کھاتے دیکھا تو اس نے بھی دائیں سے کھانا شروع کر دیا بعد میں اس کے متعلق ان سے بات چیت ہوئی اور میں نے ان پر ظاہر کیا کہ ”اسلام“ کا حکم ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاؤ تو وہ کہنے لگے ہاں ہاں بڑی اچھی بات ہے اور فطرت کے بھی