صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 8
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح کو عفت و پاکدامنی کی زندگی گزارنے کی تعلیم دی ہے۔جو شادی نہ کر سکے وہ روزے رکھے تا کہ شہوت کے غلبہ سے مغلوب ہو کر عفت اور پاکدامنی سے باہر نہ نکل جائے۔ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: في بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَيَاتِي أَحَدُنَا شَهْوَلَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرُ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرُ ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرُ کہ تم میں سے کسی کا ازدواجی تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے۔صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ ! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا اس میں بھی اس کے لئے اجر ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے ؟ اگر وہ اس کا ناجائز استعمال کرے گا تو کیا وہ اس پر گناہ نہیں ہو گا؟ پس اسی طرح خواہش کا جائز اور بر محل استعمال اس کے لئے اجر کا باعث ہو گا۔اسلام انسان کے تمام قومی کا مربی اور متکفل ہے اور کسی بھی قوت اور طاقت کو ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ یہ تمام طاقتیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانتیں ہیں اور ان کا برمحل استعمال نہ صرف ان طاقتوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے انسان ہر قسم کی جسمانی، اخلاقی، روحانی اور معاشرتی برائیوں سے محفوظ رہتا ہے۔نکاح کا ایک بڑا مقصد بقائے نسل انسانی ہے اور اسلام ان تمام طریقوں اور صورتوں کو رڈ کرتا ہے جو محض شہوت کے طور پر اختیار کی جائیں اور جن کا نتیجہ یقینی طور پر نسل کشی اور نسل انسانی کی بقا کے لئے خطرہ کا موجب اور غیر فطری فعل ہو۔انبیاء اور خدا کے فرستادہ اور مقربین ان امانتوں کا حق ادا کرتے ہیں جو ان کی روحانی زندگی کے سفر میں ممد اور معاون بنتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اس جگہ یادر ہے کہ یہ خُلق جس کا نام احصان یا عفت ہے یعنی پاکد امنی۔یہ اسی حالت میں خُلق کہلائے گا جبکہ ایسا شخص جو بد نظری یا بد کاری کی استعداد اپنے اندر رکھتا ہے یعنی قدرت نے وہ قویٰ اس کو دے رکھے ہیں جن کے ذریعہ سے اس جرم کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔اس فعل شنیع سے اپنے تئیں بچائے اور اگر باعث بچہ ہونے یا نامرد ہونے یا خوجہ ہونے یا پیر فرتوت ہونے کے یہ قوت اس میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس کو اس خلق سے جس کا نام احصان یا عفت ہے موصوف نہیں کر سکتے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ عفت اور احصان کی اس میں ایک طبعی حالت ہے۔مگر ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ طبعی حالتیں خلق کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتیں بلکہ اس وقت خلق کی مد میں داخل کی جائیں گی جبکہ عقل کے زیر سایہ ہو کر اپنے محل پر صادر ہوں یا صادر ہونے کی قابلیت پیدا کر لیں۔لہذا جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ بچے اور نامرد اور ایسے لوگ جو کسی تدبیر سے اپنے تئیں نامر د کر لیں اس خلق کا (صحیح مسلم، کتاب الزكاة، باب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَهُ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ)