صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 9
صحیح البخاری جلد ۱۳ فرمایا: १ ۶۷ - كتاب النكاح مصداق نہیں ٹھہر سکتے گو بظاہر عفت اور احصان کے رنگ میں اپنی زندگی بسر کریں بلکہ تمام صورتوں میں ان کی عفت اور احصان کا نام طبعی حالت ہو گا نہ اور کچھ۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۱،۳۴۰) واضح ہو کہ احصان کا لفظ حصن سے مشتق ہے اور حصن قلعہ کو کہتے ہیں اور نکاح کرنے کا نام احصان اس واسطے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے انسان عفت کے قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور بدکاری اور بد نظری سے بچ سکتا ہے اور نیز اولاد ہو کر خاندان بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور جسم بھی بے اعتدالی سے بچارہتا ہے۔پس گویا نکاح ہریک پہلو سے قلعہ کا حکم رکھتا ہے۔“ آپ مزید فرماتے ہیں: آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ حاشیه صفحه ۲۲) ہمیں قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پر ہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو اور اولاد صالح طلب کرنے کے لئے دعا کرو جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے: مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ - الجزو نمبر ۵- یعنی چاہئے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پر ہیز گاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو۔اور محنین کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتاوہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔سو قرآن شریف سے ثابت ہو تا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں۔ایک عفت اور پرہیز گاری، دوسری حفظ صحت، تیسری اولاد۔“ آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲) بَاب ٤ : كَفْرَةُ النِّسَاءِ تعدد ازدواج ٥٠٦٧: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۵۰۶۷: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاء انہیں خبر دی۔انہوں نے کہا: عطاء نے مجھے بتایا۔