صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 330
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعمة ہے دائیں ہاتھ کا مارتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ جانور بھی انسان ہی کی طرح کرتے ہوں بلکہ اکثریت دایاں ہاتھ استعمال کرنے والے جانوروں کی پائی جاتی ہے۔اسی طرح عوام الناس میں بھی خواہ وہ کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں کثرت دائیں کے استعمال کی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت نے ہی دائیں کو اہمیت دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تحت دائیں ہاتھ سے کام شروع کرنے کو ترجیح دی ہے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے دائیں بائیں کے لئے یمین و شمال کے الفاظ رکھے ہیں۔وَ لَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِاليَمِينِ ، یعنی اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا تو ہم یقیناً اس کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے۔یہاں بھی یمین کا لفظ بولا گیا ہے غرض اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سب کے سب یمین کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔۔۔مگر اس زمانے میں ان باتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جیسا کہ میں دعوتوں میں عرصہ سے نظارہ دیکھ رہا ہوں کہ لوگ بائیں طرف سے کھانا تقسیم کرنا شروع کرتے ہیں حالانکہ یہ چیز اسلام کی خصوصیات اور رسول کریم صلی اللہ وسلم کے طرز عمل کے بالکل خلاف ہے۔پھر بھی لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔مثلاً آج کل شمس صاحب آئے ہوئے ہیں اور سارے قادیان میں ان کی دعوتیں ہو رہی ہیں مجھے بھی بلا لیا جاتا ہے دعوت کرنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سب سے پہلے خلیفہ کے سامنے چائے یا کھانار کھا جائے۔اُن کی یہ خواہش تو درست ہے مگر میرے سامنے کھانا رکھنے کے بعد وہ بائیں طرف کھانا کھنا شروع کر دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان لوگوں (یعنی شمس صاحب اور سید منیر الحصنی) کو انہوں نے میرے بائیں طرف بٹھایا ہوتا ہے اور چونکہ خلیفہ کے بعد ان مہمانوں کا حق سمجھا جاتا ہے اس لئے مجبوراً ان کو بائیں طرف سے شروع کرنا پڑتا ہے مگر یادرکھنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اعزاز کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ سب کام دائیں سے شروع کرنے چاہئیں تو دوسرا کون ہو سکتا ہے جو کہے کہ بائیں سے شروع کرو اس لئے اگر مہمان کو میرے بائیں بٹھاتے ہیں تو چاہئے کہ خواہ مہمان بائیں بیٹھے رہیں کھانا دائیں سے شروع کیا جائے تاکہ غلطی کرنے والے