صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 327
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۲۷ ٧٠ - كتاب الأطعبة مارتا تھا۔اسی پیالے میں رسول اللہ نے اقراس کے ساتھ کھانا کھایا وہ کہتے ہیں میں ادھر ادھر ہاتھ مار رہا تھا۔آپ نے فرمایا یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے حرص نہ کرو جو سامنے سے ہے اسی سے کھاؤ۔پھر کہتے ہیں ہمارے سامنے ایک طشت لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجور اور ڈو کے وغیرہ تھے۔میں سامنے سے کھانے لگا۔اب یہ دیکھیں کہ کیسا لطیف مضمون ہے یہ رسول اللہ کی حکمت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ نے اس وقت کیا کیا آنحضرت کبھی ادھر سے چنتے تھے کبھی ادھر سے چھنتے تھے اور اپنی مرضی کی نرم کھجوریں اور پسندیدہ کھجوریں چن چن کر کھانے لگے۔اقرا اب حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ ابھی تو مجھے روکا تھا کہ صرف سامنے سے کھانا ہے۔اِدھر اُدھر ہاتھ نہ مارو اب ہر طرف ہاتھ مار رہے ہیں اور کھجوریں چن رہے ہیں۔رسول اللہ اس بات کو پہچان گئے۔آپ نے فرمایا یہ کھجور مختلف قسموں کی ہیں اور جو کھانا میں نے کہا تھا شرید وہ ایک ہی قسم کا تھا۔اس میں ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے سامنے سے کھاؤ خواہ مخواہ دوسری جگہ ہاتھ نہ مارو اور جو دوسرا کھانے والا ہے اسے بھی چین سے کھانے دو لیکن کھجوروں میں کیو نکہ تقسیم ہے فرق ہے اس لیے اس فرق کے مطابق اور اپنے مزاج کے مطابق چنی چاہئیں یہ بد تمیزی نہیں ہے بلکہ یہ بے تکلفی کا ایک صحیح انداز ہے یعنی رسول اللہ کی طبیعت میں ادنی سا بھی تکلف نہیں تھا۔پھر آپ نے پانی منگوایا اس سے اپنا ہاتھ دھو یا گیلا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرا اور اس طرح آنحضور نے فرمایا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز جو ہو اس کے ساتھ ہاتھ دھونا اور منہ کو صاف کرنا ضروری ہوا کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عام پھل یا کھجوریں وغیرہ اگر ہاتھ گندے نہ ہوں یعنی اس سے پیچھے نہ ہوں اُس کھانے سے دھونے کی ضرورت نہیں ہے بعض لوگ چمچے سے کھانا اُٹھا لیتے ہیں۔لیکن آگ پر پکا ہوا کھانا جو ہے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا اس سے منہ کو صاف کرنا چاہیئے اور ہاتھ بھی دھونے چاہیں۔“ الأزهار لذوات الخمار، جلد ۲ صفحه ۵۹۵،۵۹۴) ( سنن الترمذى، أَبْوَابُ الأَطْعِمَةِ ، بَاب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الطَّعَامِ)