صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 326
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۲۶ ٧٠ - كتاب الأطعمة ٥٣٧٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۳۷۸: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے وہب أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى بن کیسان ابو نعیم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا لایا گیا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ سَمِّ الله اور آپ کے ساتھ آپ کار بیب عمر بن ابی سلمہ تھا۔ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ۔ أطرافه : ٥٣٧٦، ٥٣٧٧ آپ نے فرمایا: اللہ کا نام لو اور وہاں سے کھاؤ جو تمہارے نزدیک ہے۔ تشريح الا الأَكُلُ مَا يليه : وہاں سے کھانا جو اس کے قریب ہو۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع جلسہ سالانہ جرمنی ۲۲ اگست ۱۹۹۸ کولجنہ سے خطاب میں فرماتے ہیں: حضرت اثر اس اے کی ایک روایت میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس میں کئی باتیں سمجھنے والی ہیں۔ حضرت اقراس بیان کرتے ہیں کہ بنو مرہ نے اپنے اموال صدقہ دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدم ا خدمت میں بھیجا۔ جب میں مدینہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت حضور مہاجرین اور انصار کے درمیان رونق افروز تھے حضور نے میرا ہاتھ پکڑا اور ام سلمہ کے گھر لے گئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا کوئی کھانے کی چیز ہے۔ انہوں نے آنحضور کے لیے ثرید کا پیالہ بنایا ہوا تھا ایک ایسی غذا ہے جسے اس زمانے میں جس کو نرم آٹا نصیب نہ ہو وہ بھی شوق سے کھا سکتے ہیں۔ بے دانت کا آدمی بھی کھا سکتا ہے کیونکہ گندم کے دانے جو ( بچ جاتے ) تو موٹی چکی میں پیسے جائیں ان کو جب شوربے میں دیر تک بھگو کے رکھا جائے تو بالکل نرم ہو جاتے ہیں۔ پس آنحضور نرید بہت پسند فرماتے تھے خصوصاً جب جنگ اُحد میں دانت شہید ہو گئے اُس کے بعد آپ کا موٹی کھردری روٹی کھانا مشکل تھا اس لیے نرید پسند فرماتے تھے۔ ام سلمہ نے اس میں بوٹیاں بھی بہت ڈالی ہوئی تھیں وہ ثرید رسول اللہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضور نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا جب ہم اس میں سے کھانے لگے تو میں کبھی ادھر ہاتھ مارتا تھا کبھی اُدھر ہاتھ 1 ترندی کی اس روایت میں صحابی راوی کا نام عکراش درج ہے۔