صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 320
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۲۰ ٧٠ - كتاب الأطعمة خداداد اور قابل تعریف قوت کو کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کی شہادت خدا کے قانون قدرت سے اس طرح پر بھی ملتی ہے کہ چارپایوں میں سے جس قدر گھاس خور جانور ہیں کوئی بھی ان میں سے وہ شجاعت نہیں رکھتا جو ایک گوشت خور جانور رکھتا ہے۔ پرندوں میں بھی یہی بات مشاہدہ ہوتی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ اخلاق پر غذاؤں کا اثر ہے۔ ہاں جو لوگ دن رات گوشت خوری پر زور دیتے ہیں اور نباتی غذاؤں سے بہت ہی کم حصہ رکھتے ہیں وہ بھی علم اور انکسار کے خُلق میں کم ہو جاتے ہیں اور میانہ روش کو اختیار کرنے والے دونوں خلق کے وارث ہوتے ہیں۔ اسی حکمت کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَ لَا تُسْرِفُوا ( الأعراف: (۳۲) یعنی گوشت بھی کھاؤ اور دوسری چیزیں بھی کھاؤ مگر کسی چیز کی حد سے زیادہ کثرت نہ کرو تا اس کا اخلاقی حالت پر بداثر نہ پڑے اور تا یه کثرت مضر صحت بھی نہ ہو اور جیسا کہ جسمانی افعال اور اعمال کا روح پر اثر پڑتا ہے ایسا ہی کبھی روح کا اثر جسم پر جا پڑتا ہے۔ جس شخص کو کوئی غم پہنچے آخر وہ چشم پر آب ہو جاتا ہے اور جس کو خوشی ہو آخر وہ تبسم کرتا ہے۔ جس قدر ہمارا کھانا، پینا، سونا، جاگنا، حرکت کرنا، آرام کرنا غسل کرنا وغیرہ افعال طبعیہ ہیں۔ یہ تمام افعال ضروری ہماری روحانی حالت پر اثر کرتے ہیں۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰صفحه ۳۱۹ تا ۳۲۱) بَاب ۱ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمُ (البقرة: ۱۷۳) الْآيَة اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اُن پاکیزہ چیزوں کو کھایا کرو جو ہم نے تم کو دیں وَقَوْلُهُ أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ان پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ جو (البقرة: ٢٦٨) وَقَوْلُهُ كُلُوا مِنَ تم کھاؤ۔ اور اُس کا یہ فرمانا: پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ الطيبتِ وَ اعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا اور نیک عمل بجالاؤ۔ جو کام تم کر رہے ہو میں اُن کو تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (المومنون : ٥٢) خوب جانتا ہوں۔ ٥٣٧٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۵۳۷۳ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، وَائِل عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت