صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 321
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۲۱ ٧٠ - كتاب الأطعبة اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابو موسیٰ وَسَلَّمَ قَالَ أَطْعِمُوا الْجَانِعَ وَعُوْدُوا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے الْمَرِيْضَ وَفُكُوا الْعَانِي۔قَالَ سُفْيَانُ فرمایا: بھوکے کو کھلاؤ اور بیمار کی عیادت کرو اور گرفتار کو چھڑاؤ۔سفیان نے کہا: العاني سے مراد وَالْعَانِي الْأَسِيْرُ۔أطرافه : ٣٠٤٦، ١٧٤، ٥٦٤٩ ٧١٧٣۔جنگی قیدی ہے۔٥٣٧٤ : حَدَّثَنَا يُوْسُفُ بْنُ عِيْسَى :۵۳۷۴: یوسف بن عیسی (مروزی) نے ہم سے حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ عَنْ أَبِيْهِ بیان کیا کہ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے ابو حازم شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (سلمان ابھی) سے، ابو حازم نے حضرت ابوہریرہ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى سے روایت کی۔انہوں نے کہا: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے تین دن تک سیر ہو کر قُبِضَ۔کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ اسی حالت میں آپ نے وفات پائی۔٥٣٧٥ : وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي ۵۳۷۵: اور اسی سند سے ابو حازم سے مروی ہے۔هُرَيْرَةَ أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ فَلَقِيْتُ انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ مجھے نہایت ہی سخت بھوک لگی۔میں حضرت عمر كِتَابِ اللهِ فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ بن خطاب سے ملا اور میں نے کتاب اللہ کی ایک فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيْدٍ فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي آیت کا اُن سے مفہوم پوچھا۔وہ اپنے گھر میں گئے مِنَ الْجَهْدِ وَالْجُوْعِ فَإِذَا رَسُوْلُ اللهِ اور میرے سامنے اس کی شرح بیان کی۔میں ابھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَی تھوڑی دور نہیں چلا تھا کہ سخت کمزوری اور بھوک رَأْسِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ کی وجہ سے اپنے منہ کے بل گر پڑا۔کیا دیکھتا ہوں لَبَّيْكَ رَسُوْلَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ فَأَخَذَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر پر کھڑے