صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 319 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 319

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۱۹ ٧٠- كتاب الأطعمة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ٧٠ - كتاب الأطعمة 0000000 کتاب الاطعمہ ۵۹ ابواب اور ۹۴ احادیث پر مشتمل ہے۔اس میں امام بخاری نے قرآن کریم کی آیات احادیث صحیحہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کھانے پینے کے متعلق جامع تعلیم پیش کی ہے۔قرآن کریم نے اس حوالے سے ایک بہت بنیادی بات یہ بیان کی ہے۔فرمایا: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا (الاعراف: ۳۲) کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔دراصل اسلامی تعلیم کا ہر پہلو اپنے اندر اعتدال رکھتا ہے۔اور ہر قسم کے افراط و تفریط سے پاک اسلامی تعلیم اس جادہ مستقیم پر قائم ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی بلکہ اس کا دائرہ عالمگیر اور آفاقی ہے۔کھانے پینے سے متعلق اسلام نے جو تعلیم اور آداب سکھائے ہیں آج کی سائنس کی تحقیقات ان کی نہ صرف تائید کرتی ہیں بلکہ ان حکمتوں کو بھی اجاگر کرتی ہیں جو اسلامی تعلیم میں پائی جاتی ہیں۔اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا کیونکہ اسلام کسی ایک زمانے کا مذ ہب نہیں بلکہ کل زمانوں اور کل قوموں کا مذہب ہے۔اس لیے اس کی تعلیم کی حکمتیں، فوائد، برکتیں اور فیوض زمانہ اور وقت کے مطابق ظاہر ہوتے رہیں گے اور بنی نوع انسان کے لیے مادی اور روحانی ترقیات کا باعث بنتے رہیں گے۔اسلام نے کھانے کے ساتھ اس امر کو خاص طور پر بیان کیا ہے کہ کھانے کا اثر انسان کے صرف جسم پر ہی نہیں ہو تا بلکہ اس کی روح اور اس کے اخلاق پر بھی اس کے گہرے اثرات ہوتے ہیں اس لیے اسلام نے حلال چیزوں کا کھانا ضروری قرار دیا اور اس کے ساتھ طیب کی شرط لگا کر اس کو نور علی نور بنا دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کے رو سے انسان کی طبعی حالتوں کو اسکی اخلاقی اور روحانی حالتوں سے نہایت ہی شدید تعلقات واقع ہیں۔یہاں تک کہ انسان کے کھانے پینے کے طریقے بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر اثر کرتے ہیں۔اور اگر ان طبعی حالتوں سے شریعت کی ہدایت کے موافق کام لیا جائے تو جیسا کہ نمک کی کان میں پڑ کر ہر ایک چیز نمک ہی ہو جاتی ہے۔ایسا ہی یہ تمام حالتیں اخلاقی ہی ہو جاتی ہیں اور روحانیت پر نہایت گہرا اثر کرتی ہیں۔ایسا ہی تجربہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ طرح طرح کی غذاؤں کا بھی دماغی اور دلی قوتوں پر ضرور اثر ہے۔مثلاً ذرا غور سے دیکھنا چاہیے کہ جو لوگ کبھی گوشت نہیں کھاتے رفتہ رفتہ ان کی شجاعت کی قوت کم ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ نہایت بزدل ہو جاتے ہیں اور ایک