صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 317 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 317

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۱۷ ۶۹ - كتاب النفقات ہے کہ إِنَّ لَكَ أَلا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَغْراى (طه: ۱۱۹) تیرے لئے مقدر ہے کہ نہ تو اس میں بھوکا رہے اور نہ نگا۔(ترجمه از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ) امام الزماں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے نظام وصیت پیش فرمایا ہے جو تمام بنی نوع انسان کی ضرورتوں کا متکفل اور ضامن ہے۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”خلاصہ یہ کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے وصیت حاوی ہے اس تمام نظام پر جو اسلام نے قائم کیا ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ وصیت کا مال صرف لفظی اشاعت اسلام کے لئے ہے مگر یہ بات درست نہیں۔وصیت لفظی اشاعت اور عملی اشاعت دونوں کے لئے ہے جس طرح اس میں تبلیغ شامل ہے اسی طرح اس میں اس نئے نظام کی تکمیل بھی شامل ہے جس کے ماتحت ہر فرد بشر کی باعزت روزی کا سامان مہیا کیا جائے۔جب وصیت کا نظام مکمل ہو گا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہو گی بلکہ اسلام کے منشاء کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دُکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا انشاء الله یتیم بھیک نہ مانگے گا، بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی ، بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہو گی، جوانوں کی باپ ہو گی، عورتوں کا سہاگ ہو گی، اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کی اس کے ذریعہ سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہو گا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالیٰ سے بہتر بدلہ پائے گا۔نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہو گا۔پس اے دوستو! دنیا کا نیا نظام نہ مسٹر چرچل بنا سکتے ہیں نہ مسٹر روز ویلٹ بنا سکتے ہیں۔یہ اٹلانٹک چارٹر کے دعوے سب ڈھکوسلے ہیں اور اس میں کئی نقائص ، کئی عیوب اور کئی خامیاں ہیں نئے نظام وہی لاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں مبعوث کئے جاتے ہیں جن کے دلوں میں نہ امیر کی دشمنی ہوتی ہے نہ غریب کی بے جا محبت ہوتی ہے ، جو نہ مشرقی ہوتے ہیں نہ مغربی، وہ خدا تعالیٰ کے پیغامبر ہوتے ہیں اور وہی تعلیم پیش کرتے ہیں جو امن قائم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہوتی ہے پس آج وہی تعلیم امن قائم کرے گی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آئی ہے اور جس کی بنیاد الوصیة کے ذریعہ ۱۹۰۵ء میں رکھ دی گئی ہے۔“ ( نظام نو، انوار العلوم جلد ۱۶ صفحه ۶۰۱٬۶۰۰) ہے۔