صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 316
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٣١٦ ۶۹ - كتاب النفقات صَلُّوْا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ لئے کوئی جائیداد چھوڑی ہے؟ اگر آپ کو بتایا جاتا اللهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَى کہ اس نے قرض کے ادا کرنے کے لیے جائیداد بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ چھوڑی ہے تو آپ اُس کا جنازہ پڑھتے ورنہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ مسلمانوں سے فرماتے: تم اپنے ساتھی پر نماز جنازہ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ۔پڑھو۔جب اللہ نے آپ کو فتوحات دیں تو آپ نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی ذات سے بڑھ کر تعلق رکھتا ہوں۔سو مومنوں میں سے جو فوت ہو اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس قرض کا ادا کرنا میرے ذمے ہے۔اور جو جائیداد چھوڑ جائے تو وہ اُس کے وارثوں کی ہے۔أطرافه ۲۲۹۸، ،۲۳۹۸، ۲۳۹۹، ۷۸۱ ۶۷۳۱، 6745، 6763۔ريح : مَنْ تَرَكَ كَلَّا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَى: جس نے قرض وغیرہ کا کوئی بوجھ یا بے کس بال بچے چھوڑے تو ان کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ایک ایسے حکمران کے سچے درد اور اپنی رعایا سے حقیقی ہمدردی کا اظہار ہے جس میں وہ اپنی قوم کے سارے بوجھ اپنے اوپر یا دوسرے لفظوں میں نظام حکومت پر ڈالتے ہوئے ان کی تمام بنیادی ضرورتوں کے پورا کرنے کا اعلان فرمارہا ہے۔اور یہی دراصل ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماتحت عوام کی تمام ضروریات کا خیال رکھے۔اس کے لیے اسلام نے زکوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کا ایک بڑا جامع منصوبہ دیا ہے جس کے ذریعہ امراء اور صاحب حیثیت لوگوں کو مالی قربانی کی تحریک کر کے ان کے اموال کو غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ وہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔اسلام نے اس نیکی کو بنی نوع انسان کی خدمت کے ساتھ ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے کے صدق، اخلاص، پاکیزگی اور اموال میں ترقی کے ساتھ امام الزماں کی دعاؤں کا ان افراد کے حق میں قبول ہونا اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بتایا ہے جیسا کہ سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهَرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنَّ لَهُمْ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (التوبه: ۱۰۳) تُو ان کے مالوں میں سے صدقہ قبول کر لیا کر ، اس ذریعہ سے تو انہیں پاک کرے گا نیز اُن کا تزکیہ کرے گا اور اُن کے لئے دعا کیا کر یقینا تیری دعا اُن کے لئے سکینت کا موجب ہوگی اور اللہ بہت سنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔(ترجمہ از حضرت خلیفہ المسیح الرابع) اس تعلیم سے دونوں حقوق کما حقہ ادا ہوتے ہیں یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد۔اسی طرح قرآن کریم نے بنی آدم کو یہ ضمانت دی