صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 315
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۱۵ ٢٩ - كتاب النفقات ٥٣٧٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۵۳۷۰ : محمد بن یوسف (فریابی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ کیا کہ سفیان (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے ہشام بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، قَالَتْ هِنْدُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ أَبَا اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيْحٌ فَهَلْ عَلَيَّ روایت کی۔ ہند نے کہا: یا رسول اللہ ! ابوسفیان جُنَاحٌ أَنْ أَخُذَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيْنِي بہت ہی کنجوس شخص ہے۔ کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر وَبَنِيَّ قَالَ خُذِي بِالْمَعْرُوْفِ۔ میں اس کے مال سے اتنا لے لوں جو مجھے اور میرے بیٹوں کو کافی ہو؟ آپ نے فرمایا: دستور کے مطابق لے لو۔ أطرافه: ۲۲۱۱ ، ٢٤٦٠ ، ۳۸۲٥، ٥٣٥۹، ٥٣٦٤ ، ٦٦٤١، ٧١٦١، ٧١٨٠۔ بَاب ١٥ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ كَلَّا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: جس نے قرض وغیرہ کا کوئی بوجھ یا بے کس بال بچے چھوڑے تو ان کی ذمہ داری مجھ پر ہے ٥٣٧١ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۳۷۱: يحيی بن بگیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے ابو سلمہ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى سے روایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ پاس ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جو ایسی حالت میں هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلًا فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ فوت ہو جاتا کہ اس کے ذمہ قرض ہوتا تو آپ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ پوچھتے : کیا اس نے اپنے قرض کے ادا کرنے کے