صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 6
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح بَاب ۲: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ} الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: تم میں سے جو بیاہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کرے کیونکہ شادی کرنا اُس کی نگاہ کو نیچا رکھنے اور اُس کی شرمگاہ کو بچانے کا زیادہ موجب ہو گا وَهَلْ يَتَزَوَّجُ مَنْ لَّا أَرَبَ لَهُ فِي اور کیا وہ بھی شادی کرے جس کو نکاح کرنے کی کوئی خواہش نہ ہو؟ النكاح؟ ٥٠٦٥ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۵۰۶۵: عمر بن حفص بن غیاث) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم (شخصی) نے مجھے بتایا۔كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ بِمِنِّى ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) سے روایت کی۔فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ انہوں نے کہا: میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) حَاجَةً فَخَلَيَا فَقَالَ عُثْمَانُ هَلْ لَكَ کے ساتھ تھا۔حضرت عثمان منی میں اُن سے ملے يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي أَنْ نُزَوَجَكَ اور کہنے لگے: ابو عبد الرحمن ؟ مجھے تم سے کچھ کام بِكْرًا تُذَكَّرُكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ؟ فَلَمَّا ہے اور وہ دونوں الگ ہو گئے۔حضرت عثمان نے کہا: ابو عبد الرحمن ! کیا تمہیں خواہش ہے کہ ہم رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَّيْسَ لَهُ حَاجَةٌ تمہاری ایسی کنواری سے شادی کر دیں جو تمہیں جوانی إِلَى هَذَا أَشَارَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا عَلْقَمَةُ کا زمانہ یاد دلا دے۔جب حضرت عبد اللہ نے فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ أَمَا لَئِنْ دیکھا کہ انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں تو انہوں قُلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا النَّبِيُّ نے مجھے اشارہ کیا اور کہنے لگے : علقمہ ! میں ان کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ پاس گیا۔اور وہ (حضرت عثمان سے یہ) کہہ رہے الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ تھے: دیکھیں اگر آپ یہ کہتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ فَلْيَتَزَوَّجْ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ وَسلم بھی ہم سے یہ فرما چکے ہیں: اے جوانو! جو تم میں یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۱۳۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔