صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 5
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵ ۶۷ - كتاب النكاح ایک بن میں بیٹھا ہے نہ اُس کی کوئی جو رو ہے نہ اولاد ہے نہ دوست ہیں اور نہ کوئی بوجھ کسی قسم کے تعلق کا اس کے دامن گیر ہے تو ہم کیونکر سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے تمام اہل و عیال اور ملکیت اور مال پر خدا کو مقدم کر لیا ہے اور بے امتحان ہم اُس کے کیونکر قائل ہو سکتے ہیں۔ اگر ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں نہ کرتے تو ہمیں کیونکر سمجھ آسکتا کہ خدا کی راہ میں جاں فشانی کے موقع پر آپ ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی۔ مگر آپ نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لاکر صدہا امتحانوں کے موقعہ پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ کو جسمانی لذات سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجر دانہ زندگی ہے کہ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی ۔۔۔ اور آپ کی بیویاں بھی بجز حضرت عائشہ کے سب سن رسیدہ تھیں۔ بعض کی عمر ساٹھ ۲۰ برس تک پہنچ چکی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تعدد ازواج سے یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں مقاصد دین شائع کئے جائیں اور اپنی صحبت میں رکھ کر علم دین اُن کو سکھایا جائے تا وہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے ہدایت دے سکیں۔ یہ آپ ہی کی سنت مسلمانوں میں اب تک جاری ہے کہ کسی عزیز کی موت کے وقت کہا جاتا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: ۱۵۷) یعنی ہم خدا کے ہیں اور خدا کا مال ہیں اور اسی کی طرف ہمارا رجوع ہے۔ سب سے پہلے یہ صدق و وفا کے کلمے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے تھے پھر دوسروں کے لئے اس نمونہ پر چلنے کا حکم ہو گیا۔ اگر آنجناب بیویاں نہ کرتے اور لڑکے پیدا نہ ہوتے تو ہمیں کیونکر معلوم ہوتا کہ آپ خدا کی راہ میں اس قدر فدا شده 1 ہیں کہ اولاد کو خدا کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۸ تا ۳۰۰)