صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 310 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 310

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۱۰ ۶۹ - كتاب النفقات وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ نِسَاءِ رَكِبْنَ الْإِبِلَ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ نِسَاءُ قُرَيْشٍ وَقَالَ الْآخَرُ صَالِحُ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورتیں جو اونٹ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي پرسواری کرتی ہیں ان میں سے نہایت اچھی عورتیں صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجِ فِي ذَاتِ قریش کی عورتیں ہیں۔اور ایک راوی نے یہ کہا: قریش کی صالح عور تیں ہیں جو بچوں پر جب يَدِهِ۔وَيُذْكَرُ عَنْ مُّعَاوِيَةَ وَابْنِ عَبَّاسِ چھوٹے ہوں بہت مہربان ہوتی ہیں اور خاوند کا جو النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔أطرافه : ٣٤٣٤ ٥٠٨٢- مال ہے اس کی نہایت خوبی سے نگرانی رکھتی ہیں۔اور حضرت معاویہ اور حضرت ابن عباس سے بھی یہی ذکر کیا جاتا ہے، ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی۔ح : حِفْظُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي ذَاتِ يَدِهِ وَالتَّفَقة: عورت کا جو اس کے خاوند کامال ہے اور جو خرچ کرنے کے لئے دیا گیا ہے اس کی پورے طور پر نگرانی رکھنا۔اسلام نے عورت کو مرد کے مال کی جہاں محافظ بنایا ہے وہاں مرد کے لیے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ وہ بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرے۔اگر مرد باوجود کوشش اور توجہ دلانے کے اس امر کا لحاظ نہ رکھے تو اسلام نے عورت کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی اور بچوں کی جائز ضروریات کے لیے خاوند کے مال میں سے کچھ لے لے۔حدیث میں ”معروف“ کا لفظ بیان کر کے عورت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ صرف اتنا ہی لینے کی اجازت ہے جو عرف عام میں حقیقی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو، نہ یہ کہ اس نام پر وہ خاوند کے مال کو ضائع کر دے۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ایک بیوی کی حیثیت سے وہ اپنے خاوند سے کامل وفا کرنے والی ہو گی۔خاوند کے گھر کی نگران ہو گی۔اس کے مال کو ضائع کرنے کی بجائے اس کا صحیح مصرف کرنے والی ہو گی۔کئی ایسی عورتیں ہیں جو تقویٰ پر چلنے والی ہیں یا تقویٰ کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی چلنے والی ہیں، جو باوجو د تھوڑی آمد کے اپنے خاوند سے ملنے والی رقم میں سے کچھ نہ کچھ بچا لیتی ہیں اور جمع کرتی جاتی ہیں اور بعض دفعہ مشکل حالات میں خاوند کو دے دیتی ہیں۔خاوند کو تو نہیں پتہ ہوتا کہ کیا بچت ہو رہی ہے؟ اب وہ اُس کے مال کی اس طرح غیب میں حفاظت کر رہی ہیں یا اگر اُن کو ضرورت ہے تو خاوند کو بتا کر اُس کا استعمال کر لیتی ہیں۔اپنی اولاد کی صحیح نگرانی