صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 4 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 4

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبع کے قول وَ إِنْ خِفْتُمُ اللَّا تُقْسِطُوا کے متعلق فَإِنْ خِفْتُمُ اَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةٌ اَوْ مَا پوچھا۔حضرت عائشہ نے فرمایا: میرے بھانجے ! مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوان (یہ) وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سر پرست کی پرورش (النساء: ٤) قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي الْيَتِيمَةُ میں ہو اور وہ اس کی جائیداد اور اس کی خوبصورتی تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيْهَا فَيَرْغَبُ فِي پر لاتے ہوئے چاہتا ہے کہ رواج کے مطابق جو مَالِهَا وَجَمَالِهَا يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا اُس کا حق مہر ہے اس سے کم دے کر اس سے بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ صَدَاقِهَا فَنُهُوا أَنْ شادی کرلے۔اس لئے انہیں ایسی یتیم لڑکیوں يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فَيُكْمِلُوا الصَّدَاقَ وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ۔سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا سوائے اس کے کہ وہ ان کے حق میں انصاف کریں اور اُن کو پورا پورا حق مہر دیں۔اور ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا انہیں حکم دیا گیا۔أطرافة ٢٤٩٤، ٢٧٦، ٤٥٧، ٤٥٧٤، ۲۰۰، ۵۰۹۲، ۵۰۹۸، ۵۱۲۸، ۵۱۳۱، -٥١٤٠، ٦٩٦٥ تشریح الترغيب في النكاح: نکاح کے متعلق ترغیب دینا۔روایت نمبر ۵۰۶۳ میں نیکی کے ایسے تصور کو ر ڈ کیا گیا ہے جس میں افراط و تفریط ہو۔اسلام نے اعتدال کی تعلیم دی ہے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو لازم و ملزوم قرار دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل نمونہ کو پیش فرمایا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دراصل ایک انسان کا خدا سے کامل تعلق تبھی ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر بہت سے تعلقات میں وہ گرفتار ہو۔بیویاں ہوں، اولاد ہو ، تجارت ہو ، زراعت ہو اور کئی قسم کے اُس پر بوجھ پڑے ہوئے ہوں اور پھر وہ ایسا ہو کہ گویا خدا کے سوا کسی کے ساتھ بھی اُس کا تعلق نہیں۔یہی کامل انسانوں کے علامات ہیں۔اگر ایک شخص ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور اگر تم ڈرو کہ تم یتامی کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو، دو دو اور تین تین اور چار چار۔لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک (کافی ہے) یا وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یہ (طریق) قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔“