صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 299
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۹۹ ٢٩ - كتاب النفقات عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي کے بعد پرفا تھوڑی دیر ہی ٹھہر اتھا کہ اُس نے وَبَيْنَ هَذَا فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ حضرت عمرؓ سے کہا: کیا آپ حضرت علیؓ اور حضرت وَأَصْحَابُهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ عباس سے ملنا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ چنانچہ اس نے ان کو اندر آنے کی اجازت دی۔ فَقَالَ عُمَرُ اتَّبِدُوا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وہ دونوں اندر آئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ حضرت عباس نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور ان کے الَّذِي بِهِ تَقُوْمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ درمیان فیصلہ کیجئے۔ دوسرے لوگوں نے یعنی حضرت عثمان اور اُن کے ساتھیوں نے بھی کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا امیر المؤمنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیجئے صَدَقَةٌ۔ يُرِيدُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ اور ایک کو دوسرے سے آرام دیں۔ حضرت عمر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ۔ قَالَ الرَّهْطُ قَدْ نے فرمایا: ٹھہرو۔ میں تم کو اسی اللہ کی قسم دے قَالَ ذَلِكَ۔ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيّ کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان اور زمین وَعَبَّاسٍ فَقَالَ أَنْشُدُ كُمَا بِاللهِ هَلْ قائم ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا وارث کوئی نہیں جو ہم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ قَالَا قَدْ قَالَ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہو گا۔ اس سے رسول اللہ ذلِكَ ۔ صلی ایم کی مراد خود اپنے آپ سے ہی تھی۔ اُن لوگوں نے کہا: بے شک آپ نے یہ فرمایا۔ اس پر حضرت عمر، حضرت علیؓ اور حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : میں آپ دونوں جانتے کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا آپ۔ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا؟ ان دونوں نے کہا: آپ نے یہ فرمایا تھا۔ قَالَ عُمَرُ فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا حضرت عمرؓ نے فرمایا: پھر میں تم کو اس جائیداد کی الْأَمْرِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ خَصَّ رَسُوْلَهُ حقیقت بتاتا ہوں۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ