صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 295 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 295

صحیح البخاری جلد ۱۳ وو ۲۹۵ ۶۹ - كتاب النفقات ڈالتے ہو۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حدیث میں آتا ہے کہ خاوند کو چاہئے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بیوی کے منہ میں لقمہ اگر ڈالتا ہے تو اس کا بھی ثواب ہے۔اب اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ صرف لقمہ ڈالنا بلکہ بیوی بچوں کی پرورش ہے، ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ایک مرد کا فرض ہے کہ اپنے گھر کی ذمہ داری اٹھائے۔لیکن اگر یہی فرض وہ اس نیت سے ادا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے اور خدا کی خاطر میں نے اپنی بیوی، جو اپنا گھر چھوڑ کے میرے گھر آئی ہے، اس کا حق ادا کرنا ہے، اپنے بچوں کا حق ادا کرنا ہے تو وہی فرض ثواب بھی بن جاتا ہے۔یہ بھی عبادت ہے۔اگر یہ خیالات ہوں ہر احمدی کے تو آج کل کے جو عائلی جھگڑے ہیں، تو تکار اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگیاں ہیں ان سے بھی انسان بچ جاتا ہے۔بیوی اپنی ذمہ داریاں سمجھے گی کہ میرے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ میں خاوند کی خدمت کروں، اس کا حق ادا کروں اور اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میں یہ کر رہی ہوں گی تو اس کا ثواب ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں کو یہ بتایا کہ اگر تم اس طرح کرو تو تمہارا یہ فعل بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے عبادت بن جائے گا۔اس کا ثواب ملے گا۔تو یہ چیزیں ہیں جو انسان کو سوچنی چاہئیں اور یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بعض گھروں کو جنت نظیر بنادیتی ہیں“۔خطبه جمعه فرموده ۱۳ مارچ ۲۰۰۹ ء بمقام بیت الفتوح، لندن۔خطبات مسرور جلدے صفحہ ۱۳۶، ۱۳۷) بَاب ٢ : وُجُوْبُ النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ وَالْعِيَالِ بیوی بچوں پر خرچ کرنا ضروری ہے ٥٣٥٥: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۵۳۵۵: عمر بن حفص بن غیاث) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے أَبُو صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ہم سے بیان کیا کہ ابو صالح (ذکوان) نے ہمیں اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى بتایا، کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا بتایا۔وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رَضِيَ