صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 294
صحیح البخاری جلد۱۳ ۲۹۴ ۲۹ - كتاب النفقات بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لِي مَالٌ أُوْصِي بِمَالِي عیادت کیا کرتے تھے اور میں مکہ میں بیمار تھا۔كُلِهِ قَالَ لَا۔قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ لَا۔میں نے کہا: میری جائیداد ہے۔کیا میں اپنی تمام قُلْتُ فَالقُلتُ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلث جائیداد کی وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔كَثِيرٌ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ میں نے کہا: پھر آدھی؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُوْنَ النَّاسَ میں نے کہا: تہائی ؟ آپ نے فرمایا: تہائی۔اور أَيْدِيهِمْ۔وَمَهُمَا أَنْفَقْتَ فَهُوَ لَكَ تہائی بھی بہت ہے۔تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ جاؤ صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پسارتے پھریں۔امْرَأَتِكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُكَ يَنْتَفِعُ بِكَ اور جتنا بھی تم خرچ کرو گے تمہارے لئے صدقہ ہی ہو گا۔یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اٹھا کر اپنی نَاسٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُوْنَ۔بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔اور امید ہے کہ اللہ تمہیں (بستر سے) اٹھائے تا کہ کچھ لوگ تمہارے ذریعہ سے نفع حاصل کریں اور کچھ لوگوں کو تمہارے ذریعہ سے نقصان پہنچے۔أطرافه : ٥٦، ١٢٩٥، ٢٧٤٢، ٢٧٤٤، ٣٩٣٦، ٤٤٠٩، ٥٦٥٩، ٥٦٦٨، ٦٧٣٣،٦٣٧٣۔تشریح : فَضْلُ النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ: بیوی بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت۔اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے: يَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ، قُلِ الْعَفْوَ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْأَنْتِ لَعَلَّكُمْ تتَفَكَّرُونَ (البقرة: ۲۲۰) وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں۔تو کہ جو بیچ رہے۔اللہ اسی طرح تمہارے لئے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم فکر کرو۔مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفُو : لغت میں عفو کے معنے ہیں: الْعَفْوُ: خِيَارُ الشَّيْءِ وَاجْوَدُهُ بہتر سے بہتر اور اعلیٰ سے اعلیٰ چیز (۲) مَا يَفْضُلُ عَنِ النّفَقَةِ وَلا عَسَر عَلَى صَاحِبِهِ فِي اعْطَائِهِ - جو کسی کے خرچ سے بیچ رہے اور دینے والے کو اس کے دینے میں تنگی محسوس نہ ہو۔(۳) عَفْو الْمَالِ۔وہ مال جو بغیر سوال کے دیا جائے۔أقرب الموارد، باب العين- عفو) حَتَّى اللُقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ : یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں