صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 290
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۹۰ ۶۸ - کتاب الطلاق 6 تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً إِلَى قَوْلِهِ نے اُن کو چھوا تک نہ ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو۔اور بصيره (البقرة: ۲۳۷، ۲۳۸) چاہیے کہ اس صورت میں) تم انہیں مناسب طور پر کچھ سامان دے دو۔( یہ امر ) دولت مند پر اُس کی طاقت کے مطابق (لازم ہے ) اور نادار پر اس کی طاقت کے مطابق۔(ہم نے ایسا کرنا) نیکوکاروں پر واجب (کر دیا) ہے۔اور اگر تم انہیں قبل اس کے کہ تم نے انہیں چھوا ہو لیکن مہر مقرر کر دیا) ہو طلاق دے دو تو (اس صورت میں) جو (مہر ) تم نے مقرر کیا ہو اُس کا آدھا ( اُن کے سپرد کرنا ہو گا سوائے اس (صورت) کے کہ وہ (عورتیں) معاف کر دیں یا وہ (شخص) معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح (کا) باندھنا ہو اور تمہارا معاف کر دینا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے ، اور تم آپس میں (معاملہ کرتے وقت) احسان کو نہ چھوڑا کرو، (اور یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو اللہ (اسے) یقیناً دیکھتا ہے۔وَ قَوْلُهُ وَ لِلْمُطَلَّقَتِ مَتَاعٌ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور جن عورتوں کو طلاق دی بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ كَذلِكَ جائے انہیں بھی (اپنے) حالات کے مطابق کچھ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ التِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ سامان دینا ضروری ہے۔یہ بات (ہم نے) (البقرة: ٢٤٢، ٢٤٣) وَلَمْ يَذْكُر متقیوں پر واجب (کر دی) ہے۔اسی طرح اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اپنے احکام تمہارے (فائدہ کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم سمجھو۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمُلَاعَنَةِ مُتْعَةً حِيْنَ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا۔نے لعان میں فائدہ دینے کا ذکر نہیں کیا جبکہ اُس کے خاوند نے اُس کو طلاق دی۔