صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 289
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۸۹ ۶۸ - كتاب الطلاق سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ایوب سختیانی) سے، ایوب نے سعید بن جبیر رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ۔ فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ ابن عمرؓ سے پوچھا: ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا بَنِي الْعَجْلَانِ وَقَالَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ کی تہمت لگائی ہو؟ تو انہوں نے کہا۔ نبی الله اللہ صلی اللہ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے مرد عورت میں علیحدگی فَأَبَيَا ۔ فَقَالَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ فَأَبَيَا۔ کرادی اور فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو پھر کیا تم میں سے کوئی تو بہ کرنے والا ہے ؟ تو انہوں نے نہ مانا۔ آپؐ نے پھر فرمایا: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ فِي الْحَدِيْثِ شَيْءٌ تو پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ تو لَا أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ۔ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ انہوں نے نہ مانا۔ تب آپ نے ان کو جدا کر دیا۔ مَالِي۔ قَالَ لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ ایوب نے کہا کہ عمرو بن دینار مجھ سے کہتے تھے: صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا وَإِنْ كُنْتَ اس حدیث میں ایک بات ہے میں تمہیں اس کو كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ۔ بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ انہوں نے کہا: اس شخص نے کہا: میر امال مجھے واپس ملنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم سچے بھی ہو تو تمہارا کوئی مال نہیں ہو کیونکہ تم اس سے تعلق قائم کر چکے ہو۔ اور اگر تم أطرافه: ٥٣١١ ٥٣١٢، ٥٣٥٠۔ جھوٹے ہو تو پھر یہ مال تم سے اور بھی زیادہ دور ہے۔ باب ٥٣ : الْمُتْعَةُ لِلَّتِي لَمْ يُفْرَضْ لَهَا اس عورت کو فائدہ دینا جس کا مہر نہ ٹھہرایا گیا ہو لِقَوْلِهِ تَعَالَى لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم پر کوئی گناہ نہیں اگر طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَشُوهُنَّ أَوْ تم عورتوں کو اس وقت بھی طلاق دے دو جبکہ تم