صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 279
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۷۹ ۶۸ - كتاب الطلاق صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ عَلَی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر کھڑے الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ ہوئے سنا۔ آپ فرماتے تھے: کسی عورت کو جو اللہ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثِ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہو یہ جائز نہیں کہ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ کسی پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے مگر خاوند وَعَشْرًا۔ طرفه ۱۲۸۲ پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔ ٥٣٣٦ : قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمَّ ۵۳۳۶: حضرت زینب کہتی تھیں: اور میں نے سَلَمَةَ تَقُوْلُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُوْلِ حضرت ام سلمہ سے سنا۔ وہ کہتی تھیں: ایک عورت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا گلی: یا رسول اللہ ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ گئی ہیں۔ تو کیا ہم اُس أَفَتَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى کو سرمہ لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فرمایا: نہیں۔ اس نے دو دفعہ یا تین دفعہ پوچ ن دفعہ پوچھا۔ ہر كُلُّ ذَلِكَ يَقُوْلُ لَا ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ بار آپ یہی فرماتے تھے کہ نہیں۔ پھر رسول اللہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف چار مہینے اور أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ كَانَتْ دس دن ہی تو عدت ہے۔ اور تم میں سے ایک إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ زمانہ جاہلیت میں سال کے آخر میں اُونٹ کی عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ۔ أطرافه : ٥٣٣٨، ٥٧٠٦ مینگنیاں پھینکتی تھی۔ ٥٣٣٧ : قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ ۵۳۳۷ اور حمید نے کہا: میں نے حضرت زینب وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ سے پوچھا: سال کے آخر میں اونٹ کی مینگنی کیوں فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا پھینکتی تھیں؟ تو حضرت زینب نے فرمایا: یہ دستور ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ”آفَنَكْحُلُهَا ہے ۔ ( فتح الباری جزء 9 حاشیہ صفحہ ۵۹۹) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔