صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 280
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۸۰ ۶۸ کتاب الطلاق تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا تھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيْبًا چھوٹی سی جھونپڑی میں داخل ہو جاتی اور نہایت حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ ہی برے کپڑے پہنتی اور خوشبو نہ لگاتی۔یہاں حِمارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُ بِهِ تک کہ اسی طرح ایک سال گزر جاتا۔پھر اس فَقَلَّمَا تَفْتَضُ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ کے پاس کوئی جانور گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تو کم ہی ہوتا کہ جس جانور سے وہ اپنا جسم رگڑتی تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةٌ فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيْبٍ أَوْ اور وہ نہ مر جاتا۔( یعنی وہ ضرور ہی مر جاتا۔) پھر وہ باہر آتی اور اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ غَيْرِهِ سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُ بِهِ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا۔پھینکتی۔پھر اس کے بعد وہ دوبارہ خوشبو وغیرہ جو چاہتی لگاتی۔مالک سے پوچھا گیا: مَا تَفْتَضُ بِهِ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: اپنے جسم سے لگاتی تھی۔بَابِ ٤٧ : الْكُحْلُ لِلْحَادَّةِ سوگ والی عورت کو سرمہ لگانا ٥٣٣٨: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۵۳۳۸ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔محمید بن نافع نے ہم سے بیان عَنْ زَيْنَبَ إِبْنَةِ أُمّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ کیا۔انہوں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ سے، امْرَأَةٌ تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَشُوْا عَلَى حضرت زینب نے اپنی ماں سے روایت کی کہ عَيْنَيْهَا فَأَتَوْا عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا تو اس کی آنکھوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوْهُ فِي کے خراب ہونے سے لوگ ڈرے اور رسول اللہ التَّكَخُلِ فَقَالَ لَا تَكْتَحِلْ قَدْ كَانَتْ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِ أَحْلَاسِهَا سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔آپ نے فرمایا: