صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 277
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ کتاب الطلاق بَابِ ٤٥ : مُرَاجَعَةُ الْحَائِضِ حائضہ کو واپس لانا ٥٣٣٣: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا يَزِيْدُ ۵۳۳۳: حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا بْنُ إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ که یزید بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔محمد بن سیرین حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ سَأَلْتُ ابْنَ نے ہم سے بیان کیا، یونس بن بجئیر نے مجھے بتایا۔عُمَرَ فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ (یونس نے کہا کہ) میں نے حضرت ابن عمرؓ سے وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى پوچھا۔انہوں نے کہا: ابن عمر نے اپنی بیوی کو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا طلاق دی جبکہ وہ حائضہ تھی تو حضرت عمر نے نبی ثُمَّ يُطَلَّقَ مِنْ قُبُلِ عِدَّتِهَا۔قُلْتُ صلى اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔آپ نے فرمایا: اسے أَفَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيْقَةِ قَالَ أَرَأَيْتَ کہو کہ وہ اسے واپس لے لے۔پھر جب سے اُس کی عدت شروع ہو تو طلاق دے۔میں نے کہا: کیا یہ طلاق شمار ہو گی ؟ حضرت ابن عمر نے کہا: بتاؤ تو سہی اگر وہ (شریعت کے احکام بجالانے سے) إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ۔عاجز ہو یا بیوقوف بنے (تو اس سے کیا ہوتا ہے۔) أطرافه : ۱۹۰۸، ۲۰۱، ۰۲۰۲، ۲۰۳ ٥۲۰۸، ٥٢٦٤ ٥٣٣٢، ٧١٦- بَاب ٤٦: تُحِدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا جس عورت کا خاوند اُس کو چھوڑ کر فوت ہو جائے وہ چار مہینے اور دس دن تک سوگ کرے وَقَالَ الزُّهْرِيُّ لَا أَرَى أَنْ تَقْرَبَ اور زُہری نے کہا: میری رائے میں جس کمسن لڑکی کا الصَّبِيَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا } الطَّيِّبَ خاوند فوت ہو جائے وہ بھی خوشبو کے قریب نہ لِأَنَّ عَلَيْهَا الْعِدَّةَ۔جائے کیونکہ اس پر بھی عدت لازم ہوتی ہے۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا عبد الله بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ لے الفاظ المتوفى علها فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ہیں۔(فتح الباری جزء و حاشیہ صفحہ ۵۹۹) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔