صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 277 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 277

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۷۷ ۶۸ - كتاب الطلاق بَاب ٤٥ : مُرَاجَعَةُ الْحَائِضِ حائضہ کو واپس لانا ٥٣٣٣ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ۵۳۳۳: حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ که یزید بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ محمد بن سیرین حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ سَأَلْتُ ابْنَ نے ہم سے بیان کیا، یونس بن بجبیر نے مجھے بتایا۔ عُمَرَ فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ (یونس نے کہا کہ) میں نے حضرت ابن عمرؓ سے وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى پوچھا۔ انہوں نے کہا: ابن عمرؓ نے اپنی بیوی کو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا طلاق دی جبکہ وہ حائضہ تھی تو حضرت عمرؓ نے نبی ثُمَّ يُطَلِّقَ مِنْ قُبُلِ عِدَّتِهَا ۔ قُلْتُ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے أَفَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيْقَةِ قَالَ أَرَأَيْتَ کہو کہ وہ اسے واپس لے لے۔ پھر جب سے اُس کی عدت شروع ہو تو طلاق دے۔ میں نے کہا: إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ۔ کیا یہ طلاق شمار ہو گی؟ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: بتاؤ تو سہی اگر وہ (شریعت کے احکام بجالانے سے ) عاجز ہو یا بیوقوف بنے (تو اس سے کیا ہوتا ہے۔) أطرافه : ٤۹۰۸، ٥٢٥١، ٥٢٥٢، ٥٢٥٣، ٥٢٥٨، ٥٢٦٤ ، ٥٣٣٢، ٧١٦٠۔ بَاب ٤٦ : تُحِلُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا جس عورت کا خاوند اُس کو چھوڑ کر فوت ہو جائے وہ چار مہینے اور دس دن تک سوگ کرے وَقَالَ الزُّهْرِيُّ لَا أَرَى أَنْ تَقْرَبَ اور زہری نے کہا: میری رائے میں جس کمسن لڑکی کا الصَّبِيَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا الطَّيْبَ خاوند فوت ہو جائے وہ بھی خوشبو کے قریب نہ لِأَنَّ عَلَيْهَا الْعِدَّةَ۔ جائے کیونکہ اس پر بھی عدت لازم ہوتی ہے۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ الفاظ " الْمُتَوَلَّى عَنْهَا فتح البارى مطبوعہ انصاریہ میں ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۵۹۹) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔