صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 274
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۷۴ ۶۸ - کتاب الطلاق يَّنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةٌ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا تھیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج كَثِيْبَةٌ فَقَالَ لَهَا عَقْرَى أَوْ حَلْقَى سے واپسی پر) کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے کیا إِنَّكِ لَحَابِسَتْنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ دیکھا کہ حضرت صفیہ اپنے خیمہ کے دروازے پر النَّحْرِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَانْفِرِيْ إِذًا۔افسردہ بیٹھی ہیں۔آپ نے یہ دیکھ کر اُن سے فرمایا: ارے زخمن (بانجھ )! یا فرمایا: سر منڈھی ! تم تو ہمیں روک رکھو گی۔کیا تم نے قربانی کے دن طواف زیارت کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: تو پھر کوچ کرو۔أطرافة : ٢٩٤، ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸ ۱۵۱٦، ۱۵۱۸، 1006، 1560، ،١٧٦۲ ،۱۷۰ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،١٥٦١، ١٥٦٢، ١٦٣٨ ،٤۳۹۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۰۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ _VYY9 2710V 60009 200EA LEE + A <{{ + \ بَاب ٤ ٤ : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِهِنَّ (البقرة: ٢٢٩) ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں کہ وہ اُن عورتوں کو واپس لے آئیں فِي الْعِدَّةِ۔وَكَيْفَ يُرَاجِعُ الْمَرْأَةَ إِذَا یعنی عدت کے اندر۔اور عورت کو کیسے واپس لایا طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ وَ قَوْلُهُ فَلَا جائے اگر اُس (مرد) نے اُس (عورت) کو ایک تَعْضُلُوهُنَّ (البقرة: ٢٣٣) یا دو طلاقیں دے دی ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: تو تم انہیں مت روکو۔٥٣٣٠ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۵۳۳۰: محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ عبد الوہاب (ثقفی) نے ہمیں خبر دی۔یونس (بن الْحَسَنِ قَالَ زَوَّجَ مَعْقِلْ أُخْتَهُ عبید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حسن (بصری) عفری کے معنی ہیں بانجھ اور خلقی یعنی سر منڈھی، جس کے بال کٹے ہوں۔لیکن یہاں یہ الفاظ اپنے ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ ان سے مراد اس اضطراب کا اظہار ہے جو بعض وقت انسان ایسے موقع پر محسوس کرتا ہے۔مفہوماً ”اے بھلی مانس“ یا ” اللہ کی بندی“ مراد ہے۔مزید وضاحت کے لیے روایت نمبر ۱۵۶۱ کی تشریح دیکھئے۔