صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 2 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 2

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح بندے پیدا ہوں جو اُس کو یاد کریں۔دوسری غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بھی قرار دی ہے کہ تا مرد اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے خاوند کے ذریعہ سے بد نظری اور بد عملی سے محفوظ رہے۔تیسری غرض یہ بھی قرار دی ہے کہ تابا ہم انس ہو کر تنہائی کے رنج سے محفوظ رہیں۔یہ سب آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔ہم کہاں تک کتاب کو طول دیتے جائیں۔“ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۳) کتاب النکاح میں امام بخاری نے ۱۲۵، ابواب قائم کئے ہیں۔دو ابواب کا عنوان نہیں لگایا گیا جس سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ سابقہ باب کے مضمون کا ہی تسلسل ہے۔۱۸۷، احادیث درج کی ہیں جن میں سے ۱۶۲، احادیث مکرر ہیں اور ۶۶ ، احادیث پہلی دفعہ کتاب النکاح میں آئی ہیں۔ان میں سے ۴۴، احادیث بخاری اور مسلم میں مشترک ہیں۔اور ۴۵ تعلیقات و متابعات ہیں۔نیز صحابہ اور فقہاء کے ۳۶، اقوال امام بخاری کتاب النکاح میں لائے ہیں۔کتاب النکاح میں قارئین کو اسلامی تعلیم کے اس حصہ کا ایک مختصر مگر جامع حصہ پڑھنے کو ملے گا۔بَابِ ١: التَّرْغِيبُ فِي النِّكَاحِ نکاح سے متعلق ترغیب دینا لِقَوْلِهِ تَعَالَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان عورتوں سے نکاح النِّسَاءِ (النساء:٤) الآيَةَ۔کرو جو تمہیں پسند ہوں۔٥٠٦٣: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۵۰۶۳: سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔محمد بن ابی محمید بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ طویل نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے : تین شخص ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ في صلى اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھروں پر آئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ اور پوچھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبادت کیا کرتے ہیں۔جب انہیں بتایا گیا، ایسا فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُوهَا فَقَالُوا معلوم ہو تا تھا کہ انہوں نے اسے کم خیال کیا۔وہ وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کہنے لگے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں کیا نسبت۔وَسَلَّمَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ اللہ نے انہیں جو بھی اُن سے پہلے قصور ہو چکے یا بعد