صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 1
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح بسم الله الرحمن الرحيم ٦٧ - كتاب النكاح اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) یعنی اللہ کی ( پیدا کی ہوئی) فطرت کو اختیار کر ( وہ فطرت ) جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت خالقیت بھی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِأَنْ أَعْرَفَ ۔ یعنی میں نے مخلوق کو اس لئے پیدا کیا کہ میں پہچانا جاؤں۔ پس تخلیق سے خدا کی صفات کا ظہور ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی صفت انسان کی جبلت میں بھی رکھ کر مرد عورت کے جوڑے کی صورت میں اپنے دائرہ میں اسے بھی ایک طرح کا خالق بنایا ہے۔ اس نے اس مقصد کے حصول کے لئے کامل تعلیم بیان کی۔ کہیں عورت کو کھیتی قرار دے کر افزائش نسل کا ذریعہ اسے بنایا اور کہیں اتَّقُوا اللهَ وَ لَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغي (الحشر : 19) کے کہہ کر اگلی نسل کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی، فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ ( النساء:۴) سے کہہ کر اسے پسند اور مرضی کا اختیار رَ مُسْفِحت (النساء : ۲۶) کے کہہ کر اس کا دائرہ بھی کھینچ دیا۔ اہل کتاب سے تعلقات بڑھانے بھی دیا اور مُحْصَنْت غَيْرَ مُسْفِحَتِ (النساء : ٢٦)- اور ان کی تعلیمات سے سے منور عورتوں سے شادی کی اجازت بھی دی مگر فَاظْفَرُ بِذَاتِ الدِّینِ کا ات الدین شے کا کہہ کر دین اسلام کو ترجیح دینے اور اسلامی قدروں کی حفاظت کا درس بھی دیا۔ اور مزید یہ کہ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ کہہ کر واضح لائن کھینچ دی کہ اقوام عالم سے تعلقات بڑھانے کا یہ مطلب نہیں کہ شرک کی نجاست کو اپنی نسلوں میں شامل کرنے والے بن جاؤ۔ غرض اسلام نے نکاح شادی کے متعلق جامع اور کامل تعلیم دی اور اس تعلیم کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ایک کامل نمونہ کے طور پر پیش کیا جو ہر طرح کے افراط و تفریط سے پاک اعتدال کے وسطی نکتہ پر قائم ایک مینارہ نور ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: های اور نکاح کے اغراض میں سے ایک یہ بھی غرض رکھی کہ تا اس نکاح سے خدا کے (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الايمان، بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ ) ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع ” اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : تو توع عورتوں میں میں۔ سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” ایسے حال میں کہ وہ اپنی عزت کو بچانے والیاں ہوں نہ کہ بے حیائی کرنے والیاں۔“ یعنی تم دیندار سے شادی کر کے) کامیابی حاصل کرو۔ (صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب الأكفاء في الدين، روایت نمبر ۵۰۹۰)