صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 271 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 271

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۷۱ ۶۸ - كتاب الطلاق عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ فَانْتَقَلَهَا سعيد بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ طلاق دی تو عبد الرحمن اس کو وہاں سے لے آئے الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ اور حضرت عائشہ ام المؤمنین نے مروان کو جو مدینہ کا حاکم تھا، کہلا بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور اس کو الْمَدِينَةِ اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا۔ قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيْثِ سُلَيْمَانَ إِنَّ اس کے گھر میں واپس بھیج دو۔ سلیمان کی حدیث میں یوں ہے کہ مروان نے کہا کہ عبد الرحمن بن عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي۔ تحلم نے مجھے مجبور کر دیا۔ اور قاسم بن محمد نے وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَوَمَا بَلَغَكِ یوں کہا: (اور مروان نے یہ جواب دیا) کیا آپ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ لا کو فاطمہ بنت قیس کے واقعہ کی خبر نہیں پہنچی؟ يَضُرُّكَ أَنْ لَّا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ إِنْ كَانَ بِكِ ذکر کرو تب بھی یتیم ہیں زیادہ فائدہ نہیں دینے کا۔ شَرِّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ مروان بن حکم نے کہا: اگر آپ کی مرا مراد شر سے الشر۔ ہے تو جو ان دونوں کے درمیان شر ہے وہ آپ کے لئے کافی ہے (فیصلہ کرنے کے لئے)۔ أطراف الحدیث ۵۳۲۱ : ٥۳۲۳، ٥٣٢٥، ٥٣٢٧۔ أطراف الحديث ٥٣٢٢ : ٥٣٢٤، ٥٣٢٦، ٥٣٢٨ ٥٣٢٣، ٥٣٢٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ۵۳۲۴،۵۳۲۳ : محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (محمد بن جعفر ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيْهِ شعبہ (بن حجاج) سے، شعبہ نے عبدالرحمن بن قاسم عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا سے، عبد الرحمن نے اپنے باپ (قاسم بن محمد ) سے ، ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے نہ سے روایت تَتَّقِي اللَّهَ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا لَا سُكْنَى کی۔ انہوں نے کہا: فاطمہ کو کیا ہو گیا ہے۔ وہ اللہ وَلَا نَفَقَةً۔ سے نہیں ڈرتی کہتی ہے کہ طلاق والی عورت نہ نفقہ کی اور نہ رہنے کی جگہ کی مستحق ہے۔ أطراف الحديث ۵۳۲۳ : ٥۳۲۱، ٥٣٢٥، ٥٣٢٧۔ أطراف الحديث ٥٣٢٤ : ٥٣٢٢، ٥٣٢٦، ٥٣٢٨