صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 270
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۷۰ بَاب ٤١: قِصَّةُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فاطمہ بنت قیس کا واقعہ ج ۶۸ - کتاب الطلاق وَقَوْلُهُ وَاتَّقُوا اللهَ رَبَّكُمُ لا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور تم اللہ اپنے رب سے تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ ڈرو۔ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو إلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی حُدُودُ اللهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَقَد بدکاری کا ارتکاب کریں۔اور یہ اللہ کی حدیں ہیں ظَلَم نَفْسَهُ لَا تَدرِى لَعَلَّ الله اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا اس نے يُحْدِثُ بَعد ذلِكَ امراه (الطلاق: ۲) یقینا اپنے نفس پر ظلم کیا۔تو نہیں جانتا شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی صورت پیدا کرے۔اَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُم مِّن (اے مسلمانو! مطلقہ عورتوں کے حق کو نہ بھولو) وجَدِكُمْ وَ لَا تُضَارُوهُنَّ لِتُضَيْقُوا اُن کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی طاقت کے مطابق عَلَيْهِنَّ وَإِنْ كُنَّ أَوْلَاتِ حَبْلٍ فَانْفِقُوا رہتے ہو۔اور ان کو کسی قسم کا ضرر نہ دو اس لیے عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ إِلَى کہ ان کو تنگ کر کے (گھر سے) نکال دو۔اور اگر قَوْلِهِ بَعْدَ عُسْرٍ اعسر يسراه وہ حمل والی ہوں، تو اس وقت تک اُن پر خرچ کرو (الطلاق: ۷، ۸ جب تک وضع حمل ہو جائے تو اگر وہ تنگی کی حالت میں بھی ہے تو اللہ اس کے بعد اس کے لیے فراخی کی حالت پیدا کر دے گا۔٥٣٢١، ٥٣٢٢ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ ۵۳۲۲،۵۳۲۱: اسماعیل (بن ابی اُولیس) نے ہم حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے یحیٰ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ بن سعيد (انصاری) سے، بچی نے قاسم بن محمد يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَى اور سلیمان بن یسار سے روایت کی کہ انہوں نے بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنتَ ان دونوں سے سنا کہ وہ ذکر کرتے تھے کہ یحی بن