صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 269 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 269

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۹ ۶۸ - کتاب الطلاق حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ سے ، ہشام عَنْ أَبِيْهِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْن مَحْرَمَةَ أَنَّ نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت مسور سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ بن ترمہ سے روایت کی کہ سبیعہ اسلمیہ کے ہاں زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى بچے کی ولادت اس کے خاوند کی وفات کے چند رات بعد ہوئی، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے نکاح کرنے کی اجازت مانگی اور آپ نے اس کو اجازت دی اور اس نے نکاح کیا۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ۔بَابِ ٤٠ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ (البقرة: ٢٢٩) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: وہ عورتیں جن کو طلاق دی جائے اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ فِيْمَنْ تَزَوَّجَ فِي الْعِدَّةِ اور ابراہیم (شخصی) نے اس شخص کے متعلق کہا کہ فَحَاضَتْ عِنْدَهُ ثَلَاثَ حِيَضِ بَانَتْ جس نے عدت میں ہی نکاح کر لیا ہو۔اور پھر اس مِنَ الْأَوَّلِ وَلَا تَحْتَسِبُ بِهِ لِمَنْ عورت کو اس کے پاس تین حیض آجائیں تو وہ پہلے خاوند سے قطعی طور پر جدا ہو چکی۔اور وہ ان بَعْدَهُ۔وَقَالَ الزُّهْرِيُّ تَحْتَسِبُ وَهَذَا حیضوں کو اس خاوند کے لئے عدت شمار نہ کرے أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ يَعْنِي قَوْلَ جو اس کے بعد ہوا ہے۔اور زہری نے کہا: عدت الزُّهْرِيِّ۔وَقَالَ مَعْمَرٌ يُقَالُ أَقْرَأَتِ شمار کرے اور یہ سفیان (ثوری) کو زیادہ پسند ہے الْمَرْأَةُ إِذَا دَنَا حَيْضُهَا وَأَقْرَأَتْ إِذَا یعنی زہری کا قول۔اور معمر (بن مثنی) نے کہا: دَنَا طُهْرُهَا۔وَيُقَالُ مَا قَرَأَتْ بِسَلَّى عرب کہتے ہیں: أَفَرَأَتِ الْمَرْأَةُ یعنی عورت کے حیض کا زمانہ قریب آگیا اور أَقرأت کے یہ بھی قَطُّ إِذَا لَمْ تَجْمَعْ وَلَدًا فِي بَطْنِهَا۔معنی ہیں کہ اس کی طہارت کا زمانہ قریب آگیا۔اور کہتے ہیں: مَا قَرَأَتْ بِسَلَّى قَط یعنی اس نے اپنے پیٹ میں بچہ کبھی سنبھالے نہیں رکھا یعنی حاملہ نہیں ہوئی۔