صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 268
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۸ ۶۸ - کتاب الطلاق صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةٌ مِنْ کی زوجہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلم أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ (قبیلہ) کی ایک عورت جسے سبیعہ کہتے تھے اپنے زَوْجِهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى خاوند کے پاس تھی جو اس کو چھوڑ کر ایسے وقت فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكِ میں فوت ہوا کہ وہ حاملہ تھی۔اور ابوسنابل بن فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ فَقَالَ وَاللهِ مَا بَعَلگ نے اس کو نکاح کا پیغام بھیجا۔اس نے اس يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِيْهِ حَتَّى تَعْتَدِي کے ساتھ نکاح کرنے سے انکار کر دیا۔ابوسنابل آخِرَ الْأَجَلَيْنِ فَمَكَقَتْ قَرِيْبًا مِنْ کہنے لگا: بخدایہ درست نہیں کہ تم نکاح کر وجب عَشْرِ لَيَالٍ ثُمَّ جَاءَتِ النَّبِيِّ صَلَّى تک کہ تم دونوں عدتوں سے جو عدت زیادہ لمبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْكِحِيْ۔ہے وہ نہ گزار لو۔(یہ سن کر) وہ تقریباً دس رات ٹھہری رہی۔اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طرفه: ٤٩٠٩۔کے پاس آئی۔آپ نے فرمایا: نکاح کر لو۔٥٣١٩ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۵۳۱۹ یحی بن بکیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے يحي عَن اللَّيْثِ عَنْ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ليث بن سعد) سے، لیث نے یزید بن ابی كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ حبیب) سے روایت کی کہ ابن شہاب نے ان کو أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْن لکھا کہ عبید اللہ بن عبد اللہ نے ان کو اپنے باپ الْأَرْقَمِ أَنْ يَسْأَلَ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ سے روایت کرتے بتایا کہ انہوں نے (عمر بن كَيْفَ أَفْتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد الله بن ارقم کو لکھا کہ وہ سبیعہ اسلمیہؓ سے وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ پوچھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیا فتویٰ دیا تھا ؟ تو سبیعہ نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتویٰ دیا أنكح۔طرفه: ۳۹۹۱ - تھا کہ جب وضع حمل ہو جائے، نکاح کرلوں۔٥٣٢٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ۵۳۲۰: يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک