صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 267
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۶۷ ۶۸ - کتاب الطلاق مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةٍ۔فَقَالَ لَا حَتَّى دے دی۔پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے تَذُوْقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوْقَ عُسَيْلَتَكِ۔نکاح کیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے ذکر کیا کہ وہ اس کے پاس آتا نہیں۔اور یہ کہ اس کے پاس صرف ایک پھندنے جیسا ہے۔آپ نے فرمایا: یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تو اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور وہ تجھ سے فائدہ نہ اٹھائے۔أطرافه ۲۶۳۹۸، ٥٢٦۰، ۲۶۱ ۵۲۶۵، ٥۷۹۲، ٥٨٢٥، ٦٠٨٤- :۳۸: وَالَّى يَبِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَا بِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمُ (الطلاق: ٥) باب ۳۸ : و اور تمہاری عورتوں میں سے وہ جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو قَالَ مُجَاهِدٌ إِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا يَحِضْنَ مجاہد نے کہا: یعنی اگر تمہیں علم نہ ہو کہ انہیں حیض أَوْ لَا يَحِضْنَ وَاللَّائِي فَعَدْنَ عَنِ آتا ہے یا حیض نہیں آتا اور جن عورتوں کا حیض الْحَيْضِ وَاللَّاتِي لَمْ يَحِضْنَ فَعِدَّتُهُنَّ آنا موقوف ہو گیا ہو اور وہ جنہیں ابھی حیض نہیں آتا تو ان کی عدت تین ماہ ہے۔ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ۔باب ۳۹: وَأَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (الطلاق: ه ) اور حمل والیاں اُن کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنیں ٥٣١٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۵۳۱۸: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبيْعَةَ بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جعفر بن عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ربیعہ سے، جعفر نے عبد الرحمن بن ہرمز اعرج قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے ابو سلمہ بن الرَّحْمَنِ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ عبد الرحمن نے بتایا کہ زینب بنت ابی سلمہ نے ان أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِي کو اپنی ماں حضرت ام سلمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم