صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 264
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۴ ۶۸ کتاب الطلاق امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيْتُ قوم میں سے ایک شخص آیا اور اُن سے ذکر کیا کہ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عاصم نے کہا: میں جو اس بات میں مبتلا ہوا فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ ہوں تو محض اپنی اس بات کی وجہ سے۔پھر اس کو وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًا قَلِيْلَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور اللَّحْمِ جَعْدًا سَبْطَ الشَّعَرِ وَكَانَ انہوں نے آپ کو اس شخص کے متعلق بتایا، جس کو الَّذِي وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ حَدْلًا ( عویمر ) نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا اور شخص كَثِيرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا فَقَالَ زرد رنگ کا دبلا پتلا، سیدھے بالوں والا تھا۔اور رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ شخص جس کو ( عویمر ) نے اپنی بیوی کے پاس اللَّهُمَّ بَيِّنْ فَوَضَعَتْ شَبِيْهَا بِالرَّجُلِ پایا تھا گندم گوں، موٹی پنڈلیوں والا، موٹا، بہت الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا ریالے بالوں والا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ فَلَاعَنَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! حقیقت کو کھول۔وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا۔فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ چنانچہ اس عورت نے اس شخص کے ہم شکل بچہ جنا عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ کہ جس کے متعلق اس کے خاوند نے ذکر کیا تھا کہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اس نے اسے اس کے پاس پایا۔تب رسول اللہ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان هَذِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ کرایا۔ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے مجلس میں ہی کہا: کیا وہ یہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر کھلے ثبوت کے کسی کو سنگسار کرتا تو اس کو کرتا۔حضرت ابن عباس نے کہا کہ نہیں، وہ ایک اور عورت تھی جو اسلام میں اعلانیہ بد کاری کرتی تھی۔كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوْءِ فِي الْإِسْلَامِ۔أطرافه: ٥٣١٠، ٦٨٥٥، ٠٦٨٥٦ ٧٢٣٨-