صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 265
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۵ ۶۸ - کتاب الطلاق ریح : اللعان: باب ۲۵ تا باب ۳۶ میں لعان کا مضمون بیان کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سوره نور آیات ۷ تا ۰ ا کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں اور کوئی بیرونی گواہ نہیں رکھتے صرف ان کا نفس ہی گواہ ہوتا ہے اُن میں سے ہر شخص چار دفعہ حلفیہ گواہی دے کہ واقعی میں نے اپنی عورت کو بد کاری کرتے دیکھا ہے اور میں سچا ہوں اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر لعنت ہو۔جب خاوند اس طرح قسم کھا چکے تو عورت بھی چار دفعہ قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر یہ سچا ہے تو مجھے پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔جب دونوں طرف سے قسمیں کھائی جائیں تو پھر ان دونوں کو جدا کر دیا جائے گا۔یعنی خلع کا حکم دے دیا جائے گا۔لیکن اگر خاوند بیوی پر قذف تو کرے مگر نہ گواہ لائے نہ لعان کرے تو خاوند پر حد لگے گی (یعنی اُسے اسی کوڑے لگیں گے) ہاں اگر وہ لعان کرلے تو پھر وہ حد سے آزاد ہو جائے گا یعنی کوڑے کھانے سے بچ جائے گا۔لیکن اگر بیوی بھی لعان کر دے تو پھر بیوی پر زنا کا الزام ثابت نہیں ہو گا اور دونوں طرف کا معاملہ برابر سمجھا جائے گا۔یہ لعان کسی مخفی مقام پر نہیں ہو تا بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا شخص اول لوگوں کے مجمع میں قسم کھائے۔دوم کسی مقدس مقام پر قسم کھائے۔سوم جب وہ لعنت کرنے لگے تو اس کو کہا جائے کہ دیکھو خوب سوچ سمجھ لو۔خدا کی لعنت جس شخص پر نازل ہوتی ہے اسے تباہ کر دیتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ النور زیر آیات ۷ تا ۱۰، جلد 4 صفحہ ۲۶۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: واضح ہو کہ لعان کہتے ہیں عربی زبان میں ملاعنہ کو۔لسان العرب میں لکھا ہے اللعَانُ وَالْمُلَاعَنَةُ : اللَّعْنُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَصَاعِدًا - یعنی لعان اور ملاعنہ جو دو لفظ ہیں ان دونوں کے معنی یہ ہیں کہ دو آدمی یا اُن سے زیادہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں۔پھر اسی کتاب لسان العرب میں لعن کے یعنی لکھے ہیں کہ اللَّعْنُ الإِبْعَادُ وَ الطَّرُدُ مِنَ الْخَيْرِ یعنی لعنت کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نیکی اور مال اور برکت اور بہتری سے کسی کو محروم کیا جائے۔پھر دوسرے معنی لعنت کے یہ لکھے ہیں کہ الْإِبْعَادُ مِنَ اللهِ وَ مِنَ الْخَلْقِ یعنی لعنت