صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 261 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 261

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۱ ۶۸ - کتاب الطلاق حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو سَمِعْتُ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔عمر و ( بن سَعِيْدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ دینار نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔وہ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابن عمر سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا۔تو انہوں نے کہا: قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَا عِنَيْنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں کے حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ متعلق فرمایا: تم دونوں کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے۔لَا سَبِيْلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ مَالِي تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔اب تمہارا اس سے لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا کوئی سروکار نہیں۔اُس نے کہا: میر امال مجھے ملنا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ چاہیے۔آپ نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں، اگر كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَدَاكَ أَبْعَدُ تم نے اس کے متعلق سچ کہا ہے تو تم اُس کی عصمت سے فائدہ بھی تو اٹھا چکے ہو۔اگر تم نے اس کے متعلق جھوٹ بولا ہے تو پھر وہ (مال) تمہارے لئے تو بہت ہی دور ہے۔سفیان نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو سے (سن کر) یاد رکھی۔اور ایوب (سختیانی) نے کہا: میں نے سعید بن جبیر بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى فَرَّقَ سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عمر النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سے پوچھا۔ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ وَقَالَ : اللَّهُ يَعْلَمُ ہو۔انہوں نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا اور سفیان نے اپنی دونوں انگلیاں یعنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو الگ کیا یعنی نبی صلی اللہ لَكَ۔قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو۔وَقَالَ أَيُّوبُ سَمِعْتُ سَعِيْدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ۔فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ وَفَرَّقَ سُفْيَانُ تَائِبٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔علیہ وسلم نے بنو عجلان میں سے مرد عورت کو جدا کیا اور فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو پھر کیا تم میں سے کوئی تو بہ کرنے والا ہے ؟ تین بار یوں فرمایا۔