صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 260
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۶۰ ۶۸ کتاب الطلاق كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبُ فَأَبَيَا ایک ضرور جھوٹا ہے پھر کیا تم میں سے کوئی تو بہ فَقَالَ اللهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا لَكَاذِبٌ کرنے والا ہے ؟ انہوں نے انکار کیا۔آپ نے فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبُ فَأَبَيَا فَفَرَّقَ فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک یقیناً جھوٹا بَيْنَهُمَا۔قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي عَمْرُو ہے تو کیا تم میں سے کوئی تو بہ کرنے والا ہے ؟ پھر بْنُ دِينَارٍ إِنَّ فِي الْحَدِيْثِ شَيْئًا لَا انہوں نے نہ مانا۔پھر آپ نے فرمایا: اللہ جانتا ہے أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو پھر کیا تم قَالَ قِيْلَ لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ میں سے کوئی تو بہ کرنے والا ہے ؟ پھر انہوں نے صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا وَإِنْ كُنْتَ نہ مانا۔اس پر آپ نے اُن کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ایوب کہتے تھے کہ عمرو بن دینار نے مجھے کہا: اس حدیث میں ایک اور بات بھی ہے میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم بیان نہیں کرتے۔عمرو نے بتایا کہ اس شخص نے کہا: میرا مال مجھے ملنا چاہیے۔کہتے تھے : اس سے کہا گیا: تمہارا کوئی مال نہیں۔اگر تم سچے ہو تو تم اس کی عصمت سے فائدہ بھی تو اٹھا چکے ہو۔اور اگر تم جھوٹے ہو تو پھر وہ (مال) تم سے بہت دور ہے۔كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ۔أطرافه ٥۳۱۲ ٥٣٤٩ ٥٣٥٠۔باب ۳۳: قَوْلُ الْإِمَامِ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ امام کا لعان کرنے والوں سے یہ کہنا کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا پھر تم میں سے کوئی تو بہ کرنے والا ہے؟ ٥٣١٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۵۳۱۲ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان